Al-Risala · March 2012 · page

Political statusquoism, Dawah activism

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

اس کے بعد اللہ تعالی کی مدد آئی اور حالات بہت جلد درست ہوگئے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ اہل کشمیر کھڑے ہو کر یہ کہیں کہ ــ ہم اس بات کو برداشت نہیں کر سکتے کہ اسلام کو تشدد کا مذہب سمجھا جائے ۔ ہم دوبارہ دنیا کو بتائیں گے اسلام رحمت اور امن کا مذہب ہے ۔ جس دن اہل کشمیر متحد ہو کر یہ کہیں گے ، اُسی دن اللہ کی مدد ٹوٹ پڑے گی اور اسلام دوبارہ مذہب امن کی حیثیت سے عالمی سطح پر اپنی جگہ حاصل کر لے گا۔

کشمیر دھماکہ (Kashmir explosion)

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 622 عیسوی میں مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی ۔ ہجرت سے پہلے آپ نے فرمایا تھا کہ: أمرت بقرية تأكل القرى، يقولون يثرب، وهي المدينة (صحيح البخاري، رقم الحديث: 1748) یعنی مجھ کو ایک ایسی بستی کا حکم دیا گیا ہے جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی ۔ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں، اور وہ مدینہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مدینہ کے لیے اللہ نے مقدر کیا تھا کہ وہ دعوت توحید کے لیے فلیش پوائنٹ (flash-point) بنے ۔ چناں چہ ایسا ہی ہوا، مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد توحید کا دین (اسلام) بہت جلد ایک عالمی دین بن گیا ۔

موجودہ زمانے میں اسلام کی تصویر (image) ایک متشددانہ مذہب کی بن گئی ہے۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں، اسلام کی یہی منفی تصویر ساری دنیا میں پھیل گئی۔ اب اکیسویں صدی میں آخری طور پر وہ وقت آگیا ہے جب کہ اسلام کی پرامن تصویر دنیا کے سامنے آئے۔ میڈیا کے دور میں اس مقصد کے لیے ایک بریکنگ نیوز (breaking news) درکار ہے۔ سپر بریکنگ نیوز ہی اکیسویں صدی میں، اسلام کو دوبارہ ایک پرامن مذہب کی صورت میں دنیا کے سامنے نمایاں کر سکتی ہے۔ غور کیا جائے تو آج کی دنیا میں کشمیر وہ واحد مقام ہے جہاں سے اس بریکنگ نیوز کا آغاز ہوسکتا ہے۔ پچھلے برسوں میں کشمیر میں اسلام کے نام پر متشددانہ تحریک چلی، تاہم اس کا ایک مثبت پہلو ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ہوا کہ میڈیا کے دور میں کشمیر عالمی نیوز میں آگیا۔ اب اگر کشمیر میں پر امن اسلام کی

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page