Al-Risala · March 2012 · page 11

امن کی اہمیت

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲، صفحہ ۱۱

دعوت ابھرے تو اچانک یہ ہوگا کہ کشمیر عالمی میڈیا کے لیے ایک بریکنگ نیوز بن جائے گا۔ کشمیر وہ مقام تعارف بن جائے گا جہاں سے دنیا کو اس واقعہ کی خبر ملے کہ اسلام امن کا مذہب ہے، وہ تشدد کا مذہب نہیں۔ حالات بتاتے ہیں کہ کشمیر کے لیے اس کریڈٹ کا ملنا مقدر ہو چکا ہے۔ آج اسلام کو ایک پر امن دھما کہ (peaceful explosion) کی ضرورت ہے۔ حالات بتاتے ہیں کہ غالباً کشمیر وہ مقام ہے جس کے لیے یہ مقدر ہے کہ وہ اکیسویں صدی میں اسلام کے اس پر امن دھما کے کا مقام بنے۔ یہ بلاشبہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کا تاریخ کو آج سب سے زیادہ انتظار ہے۔

امن کی اہمیت

قرآن کی سورہ النساء میں ارشاد ہوا ہے: الصلح خیر (128: 4) یعنی صلح زیادہ بہتر ہے۔ صلح کیا ہے، صلح دراصل امن کے نتیجے کا دوسرا نام ہے۔ جہاں صلح ہے، وہاں امن ہے اور جہاں صلح نہیں، وہاں امن بھی نہیں۔ اس اعتبار سے، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام میں امن کو خیر اعلیٰ کا درجہ حاصل ہے۔ عام طور پر لوگ انصاف (justice) کو بڑی چیز سمجھتے ہیں، مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ انصاف کی حیثیت صرف ایک تصوراتی معیار کی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ تصوراتی معیار عملاً کس طرح حاصل ہو۔ اس کا جواب صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ امن کے ذریعے ۔ امن کا یہ فائدہ ہے کہ اس کے ذریعے مواقع کھلتے ہیں۔ انصاف کسی کو خود بخود نہیں ملتا۔ انصاف کسی گروہ کو صرف اُس وقت ملتا ہے، جب کہ وہ مواقع کو پہچانے اور اس کو دانش مندانہ طور پر استعمال (avail) کرے ۔ موجودہ زمانے میں بہت سے مقامات ہیں جہاں لوگ انصاف کے لیے لڑ رہے ہیں، مگر ان میں سے ہر ایک اپنا مطلوب انصاف پانے میں نا کام ہے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے طریق کار (method) کی غلطی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دنیا میں ساری اہمیت طریق کار کی ہے۔ کوئی صحیح مقصد بھی غلط طریق کار کے ذریعے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اصول اتنا زیادہ عام ہے کہ اس میں اہل کشمیر یا کسی غیر اہل کشمیر کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔

کوئی گروہ جو انصاف کا طالب ہو، اُس کو سب سے پہلے اپنے یہاں امن قائم کرنا چاہیے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page