Al-Risala · March 2012 · page

کشمیر کا مستقبل

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

امن کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اُس کو ہر حال میں قائم کرنا ضروری ہے، خواہ اس کی کوئی بھی قیمت دینی پڑے۔ امن کبھی دوطرفہ بنیاد پر قائم نہیں ہوتا، امن ہمیشہ یک طرفہ صبر کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ اس کے سوا، امن کے قیام کا کوئی اور طریقہ نہیں۔

فطرت کا نظام، مواقع (opportunities) پر مبنی ہے۔ فطرت کے نظام کے تحت ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ مواقع وافر مقدار میں موجود رہتے ہیں۔ نفرت اور تشدد کا ماحول ان فطری مواقع کے لیے ٹریپ ڈُور (trap door) کی حیثیت رکھتا ہے۔ فطرت کا تقاضا ہے کہ آدمی سب سے پہلے نفرت اور تشدد کے ٹریپ ڈُور کو ہٹائے۔ اس ٹریپ ڈُور کے ہٹتے ہی مواقع ایک سیلاب کی طرح اُمڈ پڑتے ہیں۔ یہ مواقع اپنی نوعیت کے اعتبار سے، سیکولر بھی ہوتے ہیں اور دینی بھی۔

مواقع کا سیکولر استعمال یہ ہے کہ لوگ تعلیم اور اقتصادیات جیسے تعمیری شعبوں میں سرگرم ہو جائیں اور کھلے ہوئے مواقع کو استعمال کر کے وہ ہرقسم کی ترقیاں حاصل کریں۔ مواقع کا دینی استعمال یہ ہے کہ اہل ایمان ان مواقع کو دعوت الی اللہ کے لیے استعمال کریں، وہ دعوت کے مشن میں سرگرم ہو کر اپنے آپ کو اعلیٰ خدائی انعامات کا مستحق بنائیں—اس معاملے میں اہل کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ اُن کے لیے یہ عظیم موقع ہے کہ وہ اپنی ریاست میں امن قائم کریں اور لوگوں کو خدا کا پیغام پہنچا کر، خدا کے عظیم انعامات کے مستحق بنیں۔

کشمیر کا مستقبل

1947 کے بعد ریاست جموں وکشمیر ایک پرابلم اسٹیٹ (problem state) بن گیا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانکا (1984) نے اس واقعے کو تاریخ کا اتفاق (accident of history) بتایا ہے (9/32 EB)۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ 1947 کے بعد ریاست جموں وکشمیر میں جو کچھ ہوا، وہ سادہ معنوں میں صرف’’ تاریخ کا اتفاق‘‘ نہ تھا، بلکہ وہ خدا کا ایک فیصلہ (verdict of God) تھا۔ بظاہر اس اتفاقی واقعے کے پیچھے خدا کی ایک عظیم مصلحت نظر آتی ہے۔ وہ یہ کہ اکیسویں صدی میں، ریاست جموں وکشمیر اس حقیقت کا عنوان بنے کہ اسلام تشدد کا مذہب (religion of violence) نہیں،

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page