Al-Risala · March 2012 · page

امن کی طاقت زیادہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

اسلام پورے معنوں میں، امن کا مذہب (religion of peace) ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ مسائل (problems) انسانی زندگی میں ہمیشہ مثبت رول ادا کرتے ہیں۔ مسائل کے بغیر انسانی زندگی جمود (stagnation) کا شکار ہو جاتی ہے۔ مسائل کسی انسانی گروہ کو تخلیقی گروہ (creative group) بناتے ہیں۔ مسائل، انسانوں کے اندر نئی سوچ پیدا کرتے ہیں۔ مسائل ہمیشہ بہتر مستقبل کی تمہید ہوتے ہیں۔ مسائل کی حیثیت زندگی میں، زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے ساتھ جو مسائل پیش آئے، وہ اس کی بہتری کے لیے تھے، اور یہ بہتری ریاست میں اب واقعہ بنتے ہوئے نظر آ رہی ہے۔

واقعات بتاتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے حالات نے وہاں کے لوگوں کے اندر اپنے بارے میں نظر ثانی کا ذہن پیدا کیا ہے۔ اب ریاست کے لوگ پہلے کے مقابلے میں، زیادہ حقیقت پسند ہو گئے ہیں۔ انھوں نے تشدد کے بجائے امن کی طرف اپنا نیا سفر شروع کر دیا ہے۔ وہ منفی سوچ (negative thinking) سے باہر آگئے ہیں، اور وہ مثبت سوچ (positive thinking) کی اہمیت کو سمجھنے لگے ہیں۔ ماضی کے تجربے کی روشنی میں، انھوں نے روماوی سیاست کو چھوڑ دیا ہے، اور حقیقت پسندانہ تعمیر کے راستے پر اپنا نیا سفر شروع کر دیا ہے۔ انھوں نے بے فائدہ ہنگاموں کے بجائے، نتیجہ خیز عمل کا راز دریافت کر لیا ہے۔ یہ اعلیٰ اوصاف بلاشبہ کشمیر کے لیے ایک روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔

امن کی طاقت زیادہ

2 دسمبر 2009 کی شام کو دہلی میں ایک تعلیم یافتہ مسلمان مسٹر بٹ سے ملاقات ہوئی۔ وہ الرسالہ مشن سے پوری طرح متفق ہیں۔ وہ آج کل افغانستان میں رہتے ہیں۔ وہ وہاں اسلام اور امن کے موضوع پر کام کر رہے ہیں۔ وہ پشتو اور فارسی زبان اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس لیے وہ کامیابی کے ساتھ وہاں پر امن دعوت کا مشن پھیلا رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ایک بار ان کی ملاقات کچھ افغانی انتہا پسندوں سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے افغانی انتہا پسندوں سے کہا کہ آپ لوگ خودکش بم باری کیوں کرتے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page