امن کی طاقت زیادہ
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲
افغانی انتہا پیسندوں نے کہا کہ ہمارے دشمن کے پاس جو ہتھیار ہے، اُس کا جواب ہمارے پاس نہیں، اس لیے ہم مجبور ہو کر خود کش بم باری کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ آپ کے پاس جو ہتھیار ہے، اس کا جواب اُن کے پاس نہیں۔ فارسی زبان میں یہ گفتگو اس طرح تھی: افغانی : جواب اسلحہٰ آنہا پیش ما نیست، مسٹر بٹ : جواب اسلحہ شما پیش آ نہا نیست انھوں نے کہا کہ آپ تشدد کی طاقت استعمال کر رہے ہیں، لیکن اسلام کے مطابق، امن کی طاقت اُس سے زیادہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِنّ اللہ يعطى على الرفق، مالا يعطى على العنف (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2593) یعنی خدا پر امن عمل پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ متشددانہ عمل پر نہیں دیتا۔ اس معاملے کی عملی مثال اسلام کی ابتدائی تاریخ میں موجود ہے۔ احد کا غزوہ 3 ہجری میں پیش آیا۔ اس میں مسلمانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد 6 ہجری میں آپ نے فریقِ ثانی سے امن کا معاہدہ کر لیا، جو معاہدہ حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ گویا وائلنٹ ایکٹوزم کے بجائے پس فل ایکٹوزم کو اختیار کرنا تھا۔ اس کا نتیجہ، قرآن کے الفاظ میں، فتح مبین (48:1) کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یہ متشددانہ بم پر نظریاتی بم کی برتری کی ایک مثال ہے۔ چشمے کا سبق کشمیر کے ایک سفر میں، میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا۔ میں کچھ کشمیری ساتھیوں کے ہم راہ شہر سے باہر گیا۔ وہاں کھلی ہوئی وادی تھی۔ سامنے کے پہاڑ سے چشمے بہہ کر آ رہے تھے اور وادی میں بہتے ہوئے وہ آگے کی طرف چلے جا رہے تھے۔ ان چشموں کے راستے میں بار بار پتھر کے ٹکڑے آ رہے تھے، لیکن چشمہ ان پتھروں سے ٹکرائے بغیر اپنا راستہ بدل کر آگے کی طرف بڑھ جاتا تھا۔ میں وہاں بیٹھ گیا اور خاموشی کے ساتھ بہتے ہوئے چشمے کے اس منظر کو دیکھتا رہا۔ پھر میں نے اپنے کشمیری ساتھیوں سے کہا کہ دیکھئے، پانی کے یہ چشمے ٹکراؤ سے بچتے ہوئے اپنا سفر جاری کئے ہوئے ہیں۔ اگر آپ چاہیں کہ اس کے برعکس، آپ ٹکراؤ کے ذریعے اپنا مقصد
‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues