Al-Risala · March 2012 · page

ملکہ سبا کا قصہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

ایسا ہے کہ لوگ بار بار تشدد کا فعل کرتے ہیں، لوگ بار بار متشددانہ کارروائی کرتے ہیں۔ اس کا سبب شیطانی تزئین (Satanic beautification) ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ شیطان کا خاص طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک غلط کام کو خوب صورت الفاظ میں پیش کرتا ہے، وہ فساد کو اصلاح کا نام دیتا ہے (15:39)۔ اس طرح شیطان لوگوں کے ذہن کو متاثر کرتا ہے۔ وہ لوگوں کو اس فرضی یقین میں مبتلا کرتا ہے کہ جو کچھ تم کرنے جارہے ہو، وہ تشدد نہیں ہے، بلکہ وہ مقدس جہاد ہے۔ وہ شہادت کا راستہ ہے جو تم کو سیدھے جنت تک پہنچانے والا ہے۔ اس طرح شیطانی تزئین کا شکار ہو کر لوگ تشدد کا عمل کرنے لگتے ہیں۔ وہ ایک غلط کام کر رہے ہوتے ہیں، لیکن شیطان اُن کو بتاتا ہے کہ یہ ایک اچھا کام ہے۔

اس شیطانی تزئین سے بچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے، وہ یہ کہ اپنے عمل کو نتیجہ (result) کے اعتبار سے جانچا جائے۔ جو متشددانہ عمل تباہی کے انجام تک پہنچ رہا ہو، جس سے ملے ہوئے مواقع برباد ہوتے ہوں، اُس کے بارے میں یہ یقین کر لیا جائے کہ وہ شیطان کی تزئین کا نتیجہ ہے اور پھر تو بہ واستغفار کر کے اُس سے دوری اختیار کر لی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تشدد اپنے آپ میں ایک مطلوب فعل ہے۔ تشدد کبھی کوئی اصلاح پیدا نہیں کرتا، وہ صرف مزید نقصان کا سبب بنتا ہے۔ تشدد ایک حیوانی فعل ہے، وہ کوئی انسانی فعل نہیں۔ تشدد ہمیشہ نفرت اور عداوت سے پیدا ہوتا ہے۔ اپنے اندر سے نفرت اور عداوت کی سوچ کو ختم کر دیجیے۔ اس کے بعد کبھی شیطان آپ کے اوپر قابو نہ پا سکے گا۔ تشدد جیسے فعل سے آپ کامل طور پر محفوظ ہو جائیں گے۔

ملکہ سبا کا قصہ

قرآن کی سورہ النمل میں ملکہ سبا کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ ملکہ سبا (Queen of Sheba) کا زمانہ حضرت سلیمان کا زمانہ (932 ق م) ہے۔ اس کی حکومت قدیم یمن کے ساحلی علاقے میں قائم تھی۔ حضرت سلیمان، شام و فلسطین کے حکمراں تھے۔ حضرت سلیمان نے ایک مکتوب ملکہ سبا کو لکھا کہ تم یا تو سرینڈر کرو، یا ہماری فوج کشی کا سامنا کرو۔ اس کے جواب میں ملکہ سبا نے سرینڈر کا طریقہ اختیار کیا۔ اس کا سبب بتاتے ہوئے اُس نے کہا: ”بادشاہ لوگ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو وہ اس کو تباہ کر دیتے ہیں

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page