Al-Risala · March 2012 · page

ملکہ سبا کا قصہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

اور وہ اس کے عزت والوں کو ذلیل کر دیتے ہیں، اور یہی یہ لوگ کریں گے۔ ‘‘ (27:34) ملکہ سبا کے اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ایسی صورت حال کا سامنا ہو جس میں ممکن انتخاب صرف دو چیزوں کے درمیان ہو—تباہی اور مصالحت، تو ایسی صورت حال میں، تباہی کے بجائے، مصالحت (adjustment) کا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔ اُس وقت یہی اسلام کا طریقہ ہوگا۔ ملکہ سبا نے معاملے کو خالص حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھا۔ اس نے یہ رائے قائم کی کہ اگر ہم سلیمان کی طاقت سے ٹکرائیں تو زیادہ امکان یہ ہے کہ ہم ہاریں گے اور پھر ہمارے ساتھ وہی کیا جائے گا جو ہر غالب قوم، مغلوب قوم کے ساتھ کرتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر ہم اطاعت قبول کر لیں تو ہم تباہی سے بچ جائیں گے۔ اس طرح ہمارے تمام مفادات محفوظ رہیں گے۔

اس واقعے میں ایسے تمام مسلمانوں کے لیے ایک سبق ہے جو کشمیر جیسی صورت حال سے دوچار ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ایسے مقامات کے مسلمانوں کی سیاسی پالیسی کیا ہونا چاہیے، وہ پالیسی یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو بے فائدہ ٹکراؤ سے بچائیں، تاکہ وہ حاصل شدہ مواقع کو استعمال کر سکیں۔ وہ ایسا نہ کریں کہ جو ملنے والا نہیں ہے، اُس کو پانے کی کوشش میں وہ ملے ہوئے کو بھی برباد کر دیں۔ دور تشدد کا خاتمہ دوسری عالمی جنگ (1939-1945) کے زمانے میں کئی ملکوں نے تشدد کا طریقہ اختیار کیا۔ مثلاً برطانیہ، جرمنی، جاپان، وغیرہ۔ مگر جنگ کے خاتمے پر ان سب ملکوں نے جنگ کا طریقہ چھوڑ دیا اور پرامن جدوجہد کا طریقہ اختیار کر لیا۔ یہ واقعہ کوئی سادہ واقعہ نہ تھا۔ یہ دراصل اس بات کا اعلان تھا کہ اب انسانی تاریخ اُس مرحلے میں پہنچی ہے، جب کہ تشدد کا دور ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ اب انسان کے لیے صرف ایک ہی آپشن ہے اور وہ پرامن طریقِ کار کا آپشن ہے۔ کوئی بھی عمل نتیجہ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ جو عمل مثبت نتیجہ نہ پیدا کرے، وہ بلاشبہ اس قابل ہے کہ اس کو چھوڑ دیا جائے۔ دوسری جنگ عظیم میں یہی واقعہ پیش آیا۔ جو قومیں اس جنگ میں شریک تھیں، انھوں نے اس جنگ میں جان و مال کی بے شمار قربانیاں دیں، مگر نتیجے کے اعتبار سے، یہ قربانیاں ہر ایک کے لیے لاحاصل ثابت ہوئیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page