Rebellion to a tyrant, obedience to God.
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲
یہ ایک حقیقت ہے کہ دورِ جدید میں جو ہتھیار ایجاد کئے گئے، وہ جنگ کے لیے مانع (deterrent) بن گئے ہیں، وہ جنگ کے لیے محرک (incentive) کی حیثیت نہیں رکھتے۔ مثال کے طور پر جرمنی اور جاپان نے دوسری عالمی جنگ میں، جنگ کا طریقہ اختیار کر کے بہت زیادہ نقصان اٹھایا تھا، لیکن دوسری عالمی جنگ کے بعد انھوں نے اپنی قومی جدوجہد کے لیے جنگ کا طریقہ چھوڑ دیا اور اس کے بجائے امن کا طریقہ اختیار کر لیا۔ اس کے نتیجے میں دونوں ملکوں نے زبردست کامیابی حاصل کی۔ یہ کامیابی اس کے باوجود ہوئی کہ جرمنی نے اپنے ملک کا ایک حصہ مشرقی جرمنی (East Germany) کھو دیا تھا، اور جاپان اپنے ایک بڑے جزیرہ اوکی ناوا (Okinawa) سے محروم ہو گیا تھا۔ کشمیر اور دوسرے علاقے، جہاں مسلمان تشدد کی تحریک چلا رہے ہیں، اُنھیں ان واقعات سے سبق لینا چاہیے۔ یہ واقعات محض کسی ملک کے واقعات نہیں ہیں، وہ فطرت کے قانون کو بتاتے ہیں۔ فطرت کا قانون یہ ہے کہ جو لوگ نفرت اور تشدد کے راستے پر چلیں، اُن کے حصے میں آخر کار صرف محرومی آئے، اور جو لوگ امن اور محبت کے راستے پر چلیں، اُن کو ہر قسم کی کامیابی ہو۔ تخریبی سیاست مغربی دنیا کے ایک مشہور مسلم مقرر نے وہاں کے مسلمانوں کی ایک کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ظالم حکمراں کے خلاف بغاوت، خدا کے لیے وفاداری ہے:
Rebellion to a tyrant, obedience to God.
یہ جملہ اسلام کی سیاسی تعبیر (political interpretation) کے تحت بننے والے ذہن کی نمائندگی کرتا ہے۔ مسلمانوں کی جدید نسل عام طور پر، اس سیاسی تعبیر سے متاثر ہے۔ آج کی دنیا میں جگہ جگہ اسلامی انقلاب کے نام پر جو ہنگامے جاری ہیں، وہ اسی سیاسی فکر کا نتیجہ ہیں۔ اس قسم کی نام نہاد انقلابی سیاست ہرگز اسلامی سیاست نہیں۔ اگر شدید لفظ استعمال کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ اسلام کے نام پر ایک شیطانی سیاست ہے۔ اس سیاست کا بانیٔ اول خود شیطان ہے۔ آج جو لوگ اس قسم کی سیاست کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں، وہ بلاشبہ شیطان کی پیروی کر رہے ہیں،
‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues