Al-Risala · March 2012 · page

کشمیریت کی طرف واپسی

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

تحریک کے ذریعے ۔ میرا ماننا ہے کہ کشمیر کا فیصلہ انڈیا کی آزادی کے وقت ہی ہو چکا ہے۔ اب نہ اُس کو باقاعدہ جنگ کے ذریعے بدلا جا سکتا ہے اور نہ گوریلا وار کے ذریعے ۔ اس قسم کی ہر کوشش مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ اُس کو مزید دہرانا، صرف اپنے نقصان میں اضافے کے ہم معنی ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ انڈیا ہر اعتبار سے پاکستان سے بہت زیادہ ترقی کر رہا ہے۔ ایسی حالت میں کشمیر کے لیے بہترین چوائس انڈیا ہے، نہ کہ پاکستان۔ حقیقت یہ ہے کہ انڈیا کے ساتھ جُڑنا، ایک ترقی یافتہ ملک کے ساتھ جُڑنا ہے۔ اور پاکستان کے ساتھ جُڑنا، ایک ایسے ملک کے ساتھ جُڑنا ہے جو ابھی تک ترقی کی طرف اپنا سفر بھی شروع نہ کر سکا۔

1989 میں ملٹنسی (militancy) شروع ہونے سے پہلے، کشمیر کو وہاں کی زبان میں، ’’پیر وار‘‘ (صوفیوں کی سرزمین) کہا جاتا تھا۔ کشمیر کے ایک مسلمان نے بڑے درد کے ساتھ کہا کہ ــــ پہلے کشمیریوں کا حال یہ تھا کہ وہ مرغی کو بھی ذبح کرنا نہیں جانتے تھے، مگر 1989 کے بعد ان کا یہ حال ہوا کہ وہ انسان کو ذبح کرنے لگے۔ بلبل شاہ اور شاہ ہمدان جیسے صوفیوں نے کشمیر میں جو کلچر رائج کیا، وہ مکمل طور پر امن کلچر تھا۔ کشمیری لوگ اپنے مزاج کے اعتبار سے تشدد سے بالکل ناواقف تھے۔ کشمیریوں کے اس امن پسندانہ مزاج کو بتانے کے لیے ایک صوفی کا یہ شعر بالکل درست تھا: ما قصۂ سکندر و دارا، نه خوانده ایم از ما بجز حکایت مهر و وفا مپرس!

مگر انسان کی ایک کمزوری یہ ہے کہ اگر اس کو بھڑکایا جائے تو وہ بھڑک اُٹھتا ہے۔ کچھ لوگوں نے اپنے مفاد کی خاطر کشمیر میں یہی بھڑکانے کا کام کیا، مگر یہ وقتی تھا ــــ واقعات بتاتے ہیں کہ کشمیر کے لوگ اب اپنی اصل فطرت کی طرف واپس آ رہے ہیں۔

اب آخری وقت آ گیا ہے کہ کشمیر کے لوگ ماضی کی طرف لوٹیں، وہ اپنے بھولے ہوئے سبق کو یاد کریں، وہ اپنی زندگی کو دوبارہ صوفیانہ روایت پر قائم کریں، وہ کشمیر کو دوبارہ امن اور محبت کا کشمیر بنا دیں، جیسا کہ وہ اپنے ماضی میں تھا۔ یہی کشمیریت ہے۔ اسی کشمیریت کی طرف واپسی میں کشمیر کی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page