مشتے بعد از جنگ
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲
مشتے بعد از جنگ
1968 میں راقم الحروف نے کشمیر کی سیاست کے بارے میں ایک مضمون شائع کیا تھا۔ اس مضمون کا ایک سبق آموز حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے:
”اپنا حق وصول کرنے کا وقت وہ ہوتا ہے جب کہ فیصلے کا سرا اپنے ہاتھ میں ہو، مگر ہمارے لیڈر اُس وقت ہوش میں آتے ہیں، جب کہ اُن کا کیس اخلاقی کیس بن چکا ہو۔ یہ احساس مجھے اکثر اُس وقت ہوتا ہے جب کہ میں کشمیری لیڈر شیخ محمد عبداللہ کی تقریر پڑھتا ہوں۔ ان کی موجودہ سیاسی مہم مجھے 'مشتے بعد از جنگ' سے زیادہ نظر نہیں آتی۔ 1947 میں وہ اس پوزیشن میں تھے کہ اگر وہ حقیقت پسندی اختیار کرتے تو وہ خود اپنی مرضی کے مطابق، اپنے حق میں فیصلہ لے سکتے تھے۔ مگر انھوں نے فیصلے کے وقت کو غیر حقیقت پسندانہ خوابوں میں کھودیا۔ اب جب کہ فیصلے کا سرا اُن کے ہاتھ سے نکل چکا ہے تو اب وہ چیخ و پکار کر رہے ہیں، حالاں کہ اب اس چیخ و پکار کی حیثیت محض اخلاقی دہائی کی ہے، اور اخلاقی دہائی اس دنیا میں کوئی وزن نہیں رکھتی۔ قومی معاملات میں جب فیصلے کا سرا ایک بار ہاتھ سے نکل جائے تو مسئلہ بے حد سنگین ہو جاتا ہے۔ پھر تو زمین اور آسمان کی گردشیں ہی اُس کو بدل سکتی ہیں۔ قومی قیادت ایک ایسا کام ہے جو صرف اُن لوگوں کے کرنے کا ہے جو حال کے اندر مستقبل کو دیکھ سکیں۔ باقی وہ لوگ جن کی نگاہیں صرف ماضی اور حال تک جاتی ہوں اور مستقبل اُنھیں صرف اُس وقت نظر آئے جب کہ وہ واقعہ بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑا ہو، ایسے لوگ قوموں کی قیادت نہیں کر سکتے، البتہ وہ اپنے غیر دانش مندانہ اقدامات سے قوموں کو مسائل میں الجھانے کا فرض ضرور انجام دے سکتے ہیں۔ “ (الجمعية ویکلی، دہلی، 8 جون 1968، صفحہ 4)
یہ الفاظ تقریباً 45 سال پہلے لکھے گئے تھے۔ ان الفاظ کی واقعیت اب ایک ثابت شدہ حقیقت بن چکی ہے۔ اہل کشمیر کو اس تجربے سے سبق لینا چاہیے ۔ اُن کو یہ غلطی ہرگز نہیں کرنا چاہیے کہ وہ قدیم طرز کی
‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues