اسلام کا جامع تصور
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲
دوسرے لفظوں میں یہ کہ صہیونیت، زمین مرکزی سیاست (land-based politics) کا دوسرا نام ہے۔ موجودہ زمانے کے یہودی اپنی تمام طاقت، اپنا تمام سرمایہ، اپنے تمام وسائل اس سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے وہ ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمان، حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق، اسی یہودی اُسوہ کا اتباع کر رہے ہیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی سرگرمی براہِ راست طور پر یا بالواسطہ طور پر اسی مبنی بر زمین سیاست (land-based politics) کا نمونہ ہے۔ ہر جگہ کے مسلمانوں نے اسی قسم کی تحریک چلائی کہ وہ زمین کے ایک خطے پر قبضہ کریں اور وہاں اپنی حکومت قائم کریں۔ پاکستان، فلسطین، کشمیر، بوسنیا، چیچنیا، اراکان، فلپائن، سنکیانگ، وغیرہ۔ ساری دنیا کے مسلمان اس مبنی بر زمین سیاست میں یا تو عملاً شریک ہیں، یا وہ اس انداز میں سوچتے ہیں، یا اپنی تقریر اور تحریر میں اسی کا چرچا کرتے ہیں۔ یہ بلاشبہ یہودی طریقہ کا اتباع ہے۔ اس قسم کے قومی اور سیاسی جھگڑے، خواہ وہ اسلام کے نام پر کئے جائیں، لیکن وہ اسلام نہیں۔ وہ اسلام کے نام پر غیر اسلامی سیاست ہے۔ وہ دین کے نام پر بے دینی کی سرگرمیاں ہیں۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس قسم کی قومی اور سیاسی سرگرمی کو مطلق طور پر ترک کردیں، وہ اپنے ملی عمل کی از سر نو منصوبہ بندی کریں۔ اس قسم کی قومی سیاست کا کوئی مثبت انجام نہ اب تک برآمد ہوا ہے اور نہ آئندہ برآمد ہونے والا ہے۔
اسلام کا جامع تصور
کچھ لوگ اسلام کا جامع تصور پیش کر رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے ۔ اسلام میں صرف عقیدہ اور عبادت اور اخلاق شامل نہیں ہیں، بلکہ پولیٹکل سسٹم بھی اس کا لازمی جُز ہے ۔ پولیٹکل سسٹم کو قائم کیے بغیر اسلام ادھورا رہتا ہے، وہ مکمل نہیں ہوتا۔ یہ بظاہر اسلام کا جامع تصور ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف ایک تخریبی تصور ہے۔ موجودہ زمانے کی مسلم ملیٹنسی (Muslim militancy) اسی نام نہاد جامع تصور کی براہِ راست پیداوار ہے۔
آپ اسلام کے عقیدے کو مانیں، اسلامی طریقے پر عبادت کریں، اسلام کے اخلاقی اصولوں کی
‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues