اسلام کا جامع تصور
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲
پابندی کریں تو یہ آپ کا ایک ذاتی عمل ہوتا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے کسی کے ساتھ آپ کا ٹکراؤ پیش نہیں آتا، لیکن جب آپ اپنا نشانہ یہ بنائیں کہ مجھے زمین پر اسلامی حکومت قائم کرنا ہے تو یہ نشانہ فوراً آپ کو دوسرے سے ٹکرا دیتا ہے۔ اس لیے کہ پولیٹکل اقتدار کوئی خالی سیٹ نہیں ہے جس پر جا کر آپ بیٹھ جائیں۔ پولیٹکل اقتدار ہمیشہ کسی کے قبضے میں ہوتا ہے، اس لیے پولیٹکل گدی کو حاصل کرنے کے لیے فوراً دوسروں سے ٹکراؤ پیش آتا ہے۔ اس طرح آپ کا سیاسی نشانہ آپ کے اندر یہ ذہن پیدا کرتا ہے کہ آپ اقدام کرکے قابض لوگوں سے اقتدار کی کنجیاں چھین لیں۔ اقتدار کی کنجیوں کو چھیننے کا یہ نظریہ قدرتی طور پر دو گروہوں کے درمیان تشدد اور ٹکراؤ کی صورت پیدا کر دیتا ہے۔ موجودہ زمانے میں مختلف مقامات پر جو مسلم ملیٹنسی جاری ہے، وہ براہِ راست طور پر اسلام کے اسی نام نہاد جامع تصور کا نتیجہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام اصلاً اپنے آپ کو خدا کے احکام کا پابند بنانے کا نام ہے۔ جہاں تک اجتماعی نظام میں اسلام کے سیاسی اور قانونی احکام کے نفاذ کا سوال ہے، وہ تمام تر حالات پر منحصر ہے۔ سماج اگر ان احکام کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو تو پر امن کوششوں کے ذریعے ان احکام کی بجا آوری کی جائے گی، ورنہ نہیں۔ اسلام کا اصول، تکلیف بقدرِ وسع (286: 2) کا اصول ہے۔ امر موعود، امر مقصود قرآن کی سورہ النور میں اجتماعی زندگی کے بارے میں ایک حکم بیان ہوا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: "اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے اُن لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو زمین میں اقتدار عطا کرے گا، جیسا کہ اُن سے پہلے لوگوں کو اقتدار عطا کیا تھا، اور اُن کے لیے ان کے اُس دین کو جما دے گا جس کو ان کے لیے پسند کیا ہے۔ اور ان کے خوف کی حالت کے بعد اس کو امن سے بدل دے گا۔ وہ صرف میری عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد انکار کرے، تو ایسے ہی لوگ نا فرمان ہیں" (55: 24)۔
قرآن کی اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر سیاسی اقتدار کی حیثیت امر موعود کی ہے، نہ کہ امر مقصود کی۔ مسلمانوں کے لیے اپنے عمل کا نشانہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنے اندر ایمان اور
‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues