Al-Risala · March 2012 · page

یک طرفہ رپورٹنگ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

عمل صالح کی صفات پیدا کریں، وہ اپنی ساری توجہ اسی داخلی نشانے پر لگادیں۔ جہاں تک زمین پر سیاسی غلبہ کا معاملہ ہے، اس کا تعلق تمام تر اللہ تعالیٰ سے ہے۔ قرآن کے مطابق، زمین پر سیاسی غلبہ کا فیصلہ براہِ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے، اور وہ اُسی کو ملتا ہے جس کے لیے اللہ نے اس کا فیصلہ کیا ہو (3: 26)۔

اِس سے معلوم ہوا کہ سیاسی نظام کے قیام کو نشانہ بنا کر عمل کرنا، ایک مبتدعانہ عمل ہے۔ وہ دین کے نام پر بے دینی ہے۔ وہ اسلام کے نام پر اسلام سے انحراف کرنا ہے۔ اِس قسم کی کوشش کو کبھی خدا کی نصرت نہیں ملے گی، اِس لیے ایسی کوشش کبھی کامیاب ہونے والی نہیں۔

یک طرفہ رپورٹنگ

قرآن کی سورہ المطفّیف میں ، ناپ تول میں کمی کو ایک مجرمانہ فعل بتایا گیا ہے۔ یہاں متعلق آیات کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے: خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی۔ جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو وہ پورا لیں۔ اور جب وہ اُن کو ناپ کر یا تول کر دیں تو گھٹا کر دیں:

Woe to those who give short measure, who demand of other people full measure for themselves, but when they give by measurment or weight to others, they give them less. (83: 1-3)

قرآن کی اِس آیت میں جس اخلاقی برائی کا ذکر ہے، اُس سے مراد محدود طور پر صرف ناپ تول کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق زندگی کے تمام اجتماعی معاملات سے ہے۔ موجودہ زمانے میں اس تطفیف کی ایک تباہ کن صورت وہ ہے جس کو یک طرفہ رپورٹنگ کہا جاسکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ برائی مسلمانوں کے اندر بہت زیادہ عام ہے۔ مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے یہ کرتے ہیں کہ جب بھی مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان کوئی ٹکراؤ ہو تو وہ صرف غیر مسلموں کی طرف سے کی جانے والی کارروائی کو بیان کرتے ہیں، اور مسلمانوں نے اپنی طرف سے جو کچھ کیا تھا، اُس کو وہ حذف کردیتے ہیں۔ وہ غیر مسلموں کی جوابی کارروائی کو بیان کرتے ہیں، وہ مسلمانوں کی طرف سے کئے جانے والے اقدام کو بیان نہیں کرتے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page