Al-Risala · March 2012 · page

یک طرفہ رپورٹنگ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

اس طرح کے معاملات میں کہنے والے اکثر یہ کہتے ہیں کہ کوئی آپ کے گھر میں گھس آئے تو آپ کیا کریں گے۔ اسی کا نام یک طرفہ رپورٹنگ ہے، کیوں کہ کوئی گھسنے والا اچانک نہیں گھستا، بلکہ پہلے گھر والے اپنی کسی کارروائی سے اس کو مشتعل کرتے ہیں، اس کے بعد کوئی گھسنے والا اُن کے گھر میں گھستا ہے۔ اس کا حل اپنے حصے کی اشتعال انگیزی کو روکنا ہے، نہ کہ گھسنے والے کے خلاف بے فائدہ چیخ و پکار کرنا۔ اسی طرح کی صورتِ حال کے بارے میں، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: الفتنة نائمة، لعن الله من أيقظها (الجامع الصغير للسيوطي، رقم الحديث: 5975) یعنی فتنہ سویا ہوا ہے۔ اللہ اُس شخص پر لعنت کرے جو اس سوئے ہوئے فتنے کو جگائے۔ اس یک طرفہ رپورٹنگ (one-sided reporting) کا یہ بھیانک انجام ہوا ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان یہ سمجھنے لگے ہیں کہ وہ صرف مظلوم ہیں، اور دوسرے لوگ صرف ظالم۔ اس ناقص رپورٹنگ کا مزید نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان منفی سوچ (negative thinking) میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ وہ دوسری قوموں کو دشمن سمجھ کر اُن سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ انسانوں کے بارے میں وہ نفرت کی نفسیات میں جیتے ہیں، نہ کہ محبت کی نفسیات میں۔

اس یک طرفہ رپورٹنگ کی برائی صرف یہ نہیں ہے کہ وہ حقیقت کے اعتبار سے، خلافِ واقعہ ہے۔ اس کا شدید تر نقصان یہ ہے کہ اُس نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو منافقت میں مبتلا کر دیا ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ دوسری قوموں سے الگ ہو کر اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ اپنے مادی مفاد کے تحت اُن کو بار بار دوسری قوموں سے مصالحانہ تعلق قائم کرنا پڑتا ہے۔ چناں چہ اُن کا حال یہ ہے کہ وہ نفرت کی اس سوچ کو باقی رکھتے ہوئے دوسری قوموں سے سماجی اور اقتصادی تعلقات قائم کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ دل میں نفرت رکھتے ہوئے وہ لوگوں کے ساتھ دوستانہ انداز اختیار کرتے ہیں۔ یہ بلا شبہہ دو عملی ہے، اور دو عملی ہی کا دوسرا نام منافقت ہے۔

یک طرفہ رپورٹنگ، یعنی کسی واقعے کے ایک پہلو کو بیان کرنا اور دوسرے پہلو کو بیان نہ کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کے بے شمار نقصانات ہیں۔ اس طرح کی رپورٹنگ سے آدمی کے اندر

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page