Al-Risala · March 2012 · page

عمومی فتنہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

غیرسنجیدگی پیدا ہوتی ہے۔ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے کی صلاحیت اس کے اندر سے ختم ہو جاتی ہے۔ وہ قومی عصبیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ معاملات میں حقیقت پسندانہ مزاج اس کے اندر باقی نہیں رہتا۔ دوسروں کے لیے خیر خواہی کا جذبہ اس کے اندر سے ختم ہو جاتا ہے۔ وہ منفی سوچ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر پہلے شکایتی مزاج پیدا ہوتا ہے، اس کے بعد وہ لوگوں سے نفرت کرنے لگتا ہے۔ آخر میں وہ متشددانہ کارروائی کو اپنے لیے جائز سمجھ لیتا ہے—شراب اگر جسمانی اعتبار سے، اُم الخبائث ہے، تو یک طرفہ رپورٹنگ سوچ کے اعتبار سے، اُم الخبائث کی حیثیت رکھتی ہے۔

عمومی فتنہ

قرآن کی سورہ الانفال میں ارشاد ہوا ہے: واتقوا فتنة لا تصيبن الذين ظلموا منكم خاصةً۔ یعنی ڈرو اس فتنے سے جو خاص اُنہی لوگوں پر واقع نہ ہو گا جو تم میں سے غلط کاری کے مرتکب ہوئے ہیں:

Beware of an affliction that will not smite exclusively those among you who have done wrong.(8:25)

قرآن کی اس آیت میں ’فتنہ‘ سے مراد خدائی فتنہ نہیں ہے، بلکہ انسانی فتنہ ہے، یعنی اشتعال کی وہ صورت حال جو ایک انسان یا بعض انسانوں کے ناعاقبت اندیشانہ عمل کے ذریعے پیدا ہوئی ہو۔ اس طرح کی صورت حال جب کسی سماج میں پیدا ہو جائے تو اُس کے بعد وہاں جو شورش برپا ہوگی، اس کا برا انجام انتخابی طور پر پیش نہیں آئے گا، بلکہ اس کا برا انجام عمومی طور پر پورے سماج کو بھگتنا پڑے گا۔ مثال کے طور پر ایک شہر میں غیرمسلموں کی ایک عبادت گاہ ہے۔ وہاں لاؤڈ اسپیکر پر اُن کا کوئی پروگرام ہو رہا ہے۔ اب اگر کچھ مسلمانوں کو اس پر شکایت پیدا ہو، وہ غیرمسلم عبادت گاہ میں جاکر اُن سے لاؤڈ اسپیکر بند کرنے کے لیے کہیں، مگر وہ لوگ اس کو بند نہ کریں۔ اس پر مسلمان غصہ ہو جائیں اور وہ اُن کے لاؤڈ اسپیکر کو توڑ کر پھینک دیں، تو یہ معاملہ کسی حد پر نہیں رکے گا، بلکہ جب یہ خبر پھیلے گی تو غیرمسلموں کی پوری کمیونٹی شدید رد عمل کا شکار ہو جائے گی۔ وہ مسلم کمیونٹی کے خلاف جذباتی کارروائی

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page