Al-Risala · March 2012 · page

عمومی فتنہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

کرے گی۔ اس کارروائی کا نشانہ صرف وہی مسلمان نہیں بنیں گے جنھوں نے لاؤڈاسپیکر کو توڑا تھا، بلکہ اس مقام کی پوری مسلم کمیونٹی اس کی زد میں آجائے گی۔

اِسی طرح مثلاً غیر مسلموں کا ایک جلوس نکلتا ہے۔ وہ ایسی سڑک سے گزرنا چاہتا ہے جہاں مسلمانوں کی مسجد واقع ہے۔ اب کچھ مسلمان سامنے آجاتے ہیں۔ وہ جلوس والوں سے یہ مانگ کرتے ہیں کہ تم لوگ اپنے جلوس کا راستہ بدلو۔ اس سے ہماری مسجد کی بے حرمتی ہوگی۔ اب مسلمان، پولیس سے یہ مانگ کرتے ہیں کہ وہ مداخلت کرے اور جلوس کی روٹ (route) کو بدلوائے۔ مگر پولیس، مسلمانوں کی مانگ کے مطابق جلوس کی روٹ کو نہیں بدلواتی۔ اب مسلمان مزید غصہ ہوجاتے ہیں۔ وہ پولیس پر پتھر مارتے ہیں۔ اس کے بعد پولیس اشتعال ہو جاتی ہے۔ وہ مسلمانوں کی بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے ان پر گولی چلاتی ہے۔ پولیس کی اس گولی کا شکار وہ مسلمان ہوتے ہیں جنھوں نے پولیس کو پتھر مارا، اور وہ بھی جنھوں نے پولیس کو پتھر نہیں مارا۔

یہی معاملہ اُن مقامات کا ہے جہاں زیادہ بڑے پیمانے پر یہ صورت حال پیش آرہی ہے۔ مثلاً کشمیر اور فلسطین، وغیرہ۔ ان مقامات پر بھی یہی ہوتا ہے کہ پہلے مسلمان، پولیس یا فوج پر پتھر مارتے ہیں۔ اس کے بعد پولیس یا فوج مسلمانوں کے اوپر گولی چلاتی ہے یا ہوائی جہاز سے وہ ان کے اوپر بم گراتی ہے۔ اس طرح کے واقعات میں عملاً یہی ہوتا ہے کہ جو مسلمان براہ راست طور پر اس فعل میں ملوث نہیں ہوتے، وہ بھی جوابی کارروائی میں فوج کی گولی اور بم کا نشانہ بنتے ہیں، یعنی ملوث ہونے والے مسلمان بھی اور ملوث نہ ہونے والے مسلمان بھی۔

اس طرح کے تمام واقعات پر قرآن کی مذکورہ آیت چسپاں ہوتی ہے۔ ایسے واقعات کو لے کر یہ احتجاج کرنا کہ فریق ثانی کی جوابی کارروائی میں قصور وار مسلمان اور غیر قصور وار مسلمان دونوں زد میں آئے، اور یہ انسانی حقوق (human rights) کے خلاف ہے۔ اس طرح کا احتجاج سرتا سر باطل ہے۔ قرآن ایسے کسی احتجاج کی تصدیق نہیں کرتا۔ اس طرح کے واقعات میں ایسا ہونا بالکل فطری ہے کہ قصوروار کے ساتھ غیر قصوروار بھی مارے جائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page