ردِ عمل اسلام میں نہیں
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲
قرآنی اصول کے مطابق ، اس طرح کے معاملے میں وہ لوگ ذمے دار قرار پاتے ہیں جنھوں نے ابتدائی طور پر اشتعال انگیزی کی کارروائی کی (13 :9)۔ اس آیت کے مطابق ، مسلم رہنماؤں کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ مسلم معاشرے میں اشتعال کا ماحول پیدا نہ ہونے دیں ، نہ یہ کہ اشتعال کے بعد کے واقعات کو لے کر وہ شکایت اور احتجاج کا ہنگامہ برپا کریں۔ ایسی روش کا دہر نقصان ہے۔ ایک یہ کہ ایسے لوگ خدا کے غضب کا شکار ہوں ، مزید یہ کہ صورت حال کی کبھی اصلاح نہ ہو ، اور وہ ہمیشہ ”ذلت اور مسکنت“ کے اسی حال میں مبتلا رہیں۔
ردِ عمل اسلام میں نہیں
بہت سے لوگ جنگ اور تشدد میں مبتلا ہیں ، انفرادی سطح پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی۔ اُن سے کہا جائے کہ تم یہ تباہ کُن کام کیوں کر رہے ہو ، تو وہ یہ جواب دیں گے کہ ـــ یہ تو ایک فطری ردِ عمل ہے۔ جب کسی گروہ کے خلاف ظلم اور نا انصافی کا واقعہ پیش آئے گا ، تو اس کے اندر ضرور جوابی ردِ عمل (reaction) پیدا ہوگا ۔ وہ گُن اور بم استعمال کرے گا ، یہاں تک کہ آخر کار وہ خودکُش بم باری (suicide bombing) کا طریقہ اختیار کرے گا۔ اگر ہمارے متشددانہ ردِ عمل کو ختم کرنا ہے ، تو فریق ثانی کی طرف سے کیے جانے والے ظلم اور نا انصافی کو ختم کرنا ہوگا ، ورنہ ہماری طرف سے متشددانہ کارروائیوں کا سلسلہ برابر جاری رہے گا۔ ردِ عمل (reaction) کو ختم کرنا ہے تو پہلے عمل (action) کو ختم کیجیے۔ اس معاملے میں یک طرفہ نصیحت سے کوئی فائدہ ہونے والا نہیں۔ ردِ عمل کا یہ فلسفہ سرتا سر غیر فطری ہے۔ ایسے لوگوں کی اصل غلطی یہ ہے کہ انھوں نے اپنے ذہنوں میں عمل کا غلط معیار قائم کر لیا ہے۔ عمل کا صحیح معیار یہ ہے کہ عمل کے بعد پیش آنے والے نتیجہ (result) کو دیکھا جائے۔ صحیح عمل کی پہچان یہ ہے کہ وہ عمل کرنے والوں کے لیے مفید نتیجہ پیدا کرے۔ جو عمل مفید نتیجہ پیدا کرے ، وہ سرے سے قابلِ ترک ہے۔
یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ کوئی عمل یا تو مفید نتیجہ پیدا کرتا ہے ، یا وہ عمل کرنے والوں کے لیے کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہوتا ہے۔ اس معاملے میں تیسری کوئی صورت
‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues