ردِ عمل اسلام میں نہیں
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲
نہیں۔ عملی اقدام وہی درست ہے جو نتیجہ خیز ہو۔ جو عملی اقدام نتیجہ خیز نہ ہو، وہ صرف اپنی تباہی میں اضافے کے ہم معنی ہے، اور اپنی تباہی میں اضافہ کبھی کسی دانش مند کا کام نہیں ہوسکتا۔ کسی عمل کے مقابلے میں جذباتی رَدِ عمل، اُس عمل کا جواب نہیں۔ عمل کا حقیقی جواب یہ ہے کہ پہلے صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے، مثبت ذہن کے ساتھ نتیجہ خیز منصوبہ بندی کی جائے، پھر ٹکراؤ کے بجائے تعمیر کے اصول پر اپنے عمل کا آغاز کیا جائے۔ یہی صحیح اسلامی طریقہ ہے۔ دوسرا شجر ممنوعہ آدم پہلے انسان تھے۔ پیدائش کے بعد اُن کو جنت میں رکھا گیا۔ وہاں اُن کو ہر قسم کی آزادی حاصل تھی۔ لیکن جنت میں ایک شجر ممنوعہ (forbidden tree) تھا۔ آدم سے کہا گیا کہ جنت میں تم آزادانہ طور پر رہ سکتے ہو، لیکن اس شجر ممنوعہ کے قریب مت جانا، ورنہ تم کو جنت سے نکال دیا جائے گا۔ اسی طرح موجودہ دنیا میں بھی ایک شجر ممنوعہ ہے، اور وہ تشدد ہے:
There was a forbidden tree in Paradise. There is also a forbidden tree in this world, and that is violence. جو لوگ تشدد میں ملوث ہوں، اُن کو اپنے اس جرم کی یہ بھاری قیمت دینی پڑے گی کہ وہ جنت میں داخلے سے محروم کر دئے جائیں۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم اور اُن کی بیوی حوا جب کُرۂ ارض پر بسائے گئے تو یہاں آغاز ہی میں ایک حادثہ پیش آیا۔ آدم کے دو بیٹوں، قابیل اور ہابیل کے درمیان نزاع ہوئی، یہاں تک کہ قابیل نے ہابیل کو مار ڈالا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس واقعے کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ لکھ دیا کہ: ”جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اُس نے سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا۔ “ (5:32)
قرآن میں اس قسم کے سخت الفاظ کسی بھی دوسرے جرم کے لیے نہیں آئے ہیں۔ اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ سنگین جرم یہ ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کے خلاف جارحانہ تشدد کرے۔ اس معاملے میں اگر کوئی استثنا ہے تو وہ ایک منظم حکومت یا ایک باقاعده
‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues