Al-Risala · March 2012 · page

ردِ عمل اسلام میں نہیں

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

عدالت کے لیے ہے۔ عام انسان کے لیے اس معاملے میں کوئی استثنا نہیں۔

تشدد کی یہ سخت ممانعت اس لیے ہے کہ تشدد فطری نظام کے خلاف ہے۔ خالق کا قائم کردہ فطری نظام یہ ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد کو آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقع ملے، لیکن تشدد اور جارحیت سے یہ فطری نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے۔ تشدد خالق کے فطری نظام میں مداخلت ہے۔ اور اس قسم کی مداخلت بلاشبہ سب سے زیادہ سنگین جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔

موجودہ دنیا میں تشدد اور جارحیت سے پاک ماحول کس طرح بنایا جائے، اس کا جواب صرف ایک ہے— اللہ سے ڈرنے والوں کو اپنے اوپر یہ ذمے داری لینا ہے کہ وہ یک طرفہ طور پر صبر کریں، وہ تشدد کے تجربے کے باوجود عملاً بے تشدد بن جائیں۔ صرف اسی طرح تشدد سے پاک ماحول دنیا میں بن سکتا ہے۔ قرآن کی سورہ المائدہ میں بتایا گیا ہے کہ جب قابیل نے ہابیل کو مارنا چاہا تو ہابیل نے کہا: لئِن بسطتَ إليَّ يدك لتقتلني، ما أنا بباسط يدي إليك لأقتلك، إني أخاف الله رب العالمين (28: یعنی اگر تم مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ اٹھاؤ گے تو میں تم کو قتل کرنے کے لیے تم پر اپنا ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا۔ میں ڈرتا ہوں اللہ سے، جو سارے جہان کا رب ہے۔ تشدد پر یک طرفہ صبر کی یہ آخری مثال ہے جو آدم کے بیٹے ہابیل نے قائم کی۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعد کے زمانے میں سیاسی بگاڑ پیدا ہوگا، مگر تم اپنے حکم رانوں سے ہرگز ٹکراؤ نہ کرنا۔ ایک صحابی نے پوچھا کہ اگر وہ خود ہمارے گھر میں ہم کو مارنے کے لیے آ جائیں تو ہم کیا کریں۔ آپ نے جواب دیا: فليكن كخير ابني آدم (سنن أبي داؤد، رقم الحدیث: 4259) یعنی تم آدم کے دو بیٹوں میں سے اچھے بیٹے بن جاؤ، یعنی خواہ تم دوسروں کے ہاتھ سے قتل ہو جاؤ، مگر تم خود دوسروں کو قتل کرنے کی کوشش نہ کرو۔ تشدد کی دو قسم ہے— ایک، غیر فعال تشدد (passive violence)۔ اور دوسرا، فعّال تشدد (active violence)۔ غیر فعال تشدد یہ ہے کہ آپ دوسروں کو ظالم بتا کر ان سے نفرت کریں۔ اور فعال تشدد یہ ہے کہ آپ دوسروں کو ظالم بتا کر اُن کے خلاف جارحانہ کارروائی شروع کر دیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page