ماضی کو بھلانا
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲
یہ دونوں صورتیں اسلام میں یکساں طور پر گناہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
آپ دونوں میں سے جس تشدد کا ارتکاب کریں، آپ شجر ممنوعہ کا پھل کھانے کے مرتکب قرار پائیں گے۔ دونوں قسم کے تشدد کے درمیان صرف ظاہر کا فرق ہے، حقیقت کے اعتبار سے دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
ماضی کو بھلانا
قرآن میں عفوودرگزر کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے (43: 42)۔ عفوودرگزر کا مطلب ہے، گزرے ہوئے دنوں کو بھلا دینا۔ جو کچھ ماضی میں ہوا، اس کو حال میں یاد رکھنا کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کا مطلب ہے— گزری ہوئی مصیبت کو تلخ یاد کی صورت میں بدستور زندہ رکھنا۔ یہ طریقہ اسلام کے خلاف بھی ہے اور عقل کے خلاف بھی۔ اسی بات کو برنارڈ شا (Bernard Shaw) نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا— سب سے زیادہ غیر تعلیم یافتہ انسان وہ ہے جس کے پاس بھلانے کے لیے کچھ نہ ہو: The most uneducated man is one who has nothing to forget. موجودہ زمانے میں جن مقامات پر مسلمان، تشدد کی کارروائیوں میں مشغول ہیں، وہ مسلسل قربانیوں کے باوجود اپنے مطلوب نتیجے کو حاصل نہ کر سکے۔ اس کے باوجود وہ اپنے لاحاصل تشدد کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے ماضی کے تلخ واقعات کو نہ بھلانا۔ ان مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ ماضی کے تلخ واقعات کا چرچا کرتے رہتے ہیں۔ وہ اسی کے بارے میں لکھتے ہیں اور اسی کے بارے میں بولتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزرے ہوئے واقعات مسلسل طور پر ان کو مشتعل کئے رہتے ہیں۔
یہ طریقہ اسلام اور عقل انسانی دونوں کے خلاف ہے۔ ان علاقوں کے مسلمانوں کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ گزرے ہوئے منفی واقعات کو مکمل طور پر بھلا دیں، وہ اُن کو اللہ کے خانے میں ڈال دیں۔ اس طرح وہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ اپنے معاملات پر حقیقت پسندانہ انداز میں سوچیں اور نتیجہ خیز طور پر اپنے عمل کی زیادہ درست منصوبہ بندی کر سکیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues