نقصان برائے آزمائش
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲
نقصان برائے آزمائش
قرآن کی سورہ البقرہ میں، انسانوں کے بارے میں اللہ کی ایک سنت کو بتایا گیا ہے۔ ان آیات کا ترجمہ یہ ہے: ’’اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے، کچھ ڈر اور بھوک سے، اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو، جن کا حال یہ ہے کہ جب اُن کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ــ ہم اللہ کے ہیں اور ہم اللہ ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے اوپر اُن کے رب کی عنایتیں اور رحمت ہے، اور یہی لوگ ہیں جو صحیح راہ پر ہیں۔ ‘‘ (157-155:2)
موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں لوگوں کو طرح طرح کے نقصانات کا تجربہ ہوتا ہے۔ یہ نقصانات بظاہر کسی انسان کی طرف سے پیش آتے ہیں، اس لیے عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اُسی انسان کو نقصان کا ذمے دار سمجھ کر اس کے خلاف نفرت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہ نفرت بڑھتے بڑھتے تشدد تک پہنچ جاتی ہے۔ مگر یہ سوچ سنتِ الہی کے خلاف ہے۔ اسی لیے نفرت اور تشدد کا کوئی مثبت انجام ایسے لوگوں کو نہیں ملتا۔
صحیح یہ ہے کہ جب کوئی نقصان پیش آئے تو اس کا الزام دوسروں کو نہ دیا جائے، بلکہ خود اپنا محاسبہ (introspection) کیا جائے۔ دنیا کے ان نقصانات کے حوالے سے آخرت کو یاد کیا جائے۔ ان نقصانات کو خدائی یاد دہانی (divine warning) سمجھا جائے اور اپنی اصلاح کی کوشش کی جائے۔ اس طرح کے نقصانات کو اگر خدا کے قائم کردہ نظامِ فطرت کے خانے میں ڈالا جائے تو اُس سے لوگوں کے اندر مثبت ذہن بنے گا۔ ایسا کرنے سے لوگ کھوئے ہوئے غم کو لے کر مایوسی کا شکار ہونے سے بچ جائیں گے اور اُس سے سبق لے کر از سرِ نو اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کریں گے۔ جس طرح ہر پیدا ہونے والے پر موت آتی ہے، اور زندہ رہنے والوں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اس موت کو بھلا دیں، اُسی طرح، ہر پائی ہوئی چیز کو کبھی نہ کبھی کھونا پڑتا ہے۔ اس معاملے میں آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ کھوئی ہوئی چیز کو اُسی طرح بھلا دے، جس طرح وہ مرنے والے کو بھلا دیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues