Al-Risala · March 2012 · page

نقصان برائے آزمائش

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ایک چیز کھوئی جاتی ہے تو فطرت کے نظام کے تحت، دوسری ہزاروں چیزیں موجود رہتی ہیں جو اب بھی انسان کو حاصل ہیں۔ ایسی حالت میں، کھوئے ہوئے کونے بھلانے کی یہ بھاری قیمت دینی پڑتی ہے کہ آدمی کے اندر سے شکر کا جذبہ رخصت ہو جاتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ وہ کھوئی ہوئی چیز کے غم میں ملی ہوئی چیزوں کا شکر ادا کرنے سے محروم ہو رہا ہے۔ یہ گویا دنیا کے حقیر نقصان پر آخرت کے عظیم نقصان کا خطرہ مول لینا ہے۔ یہ عارضی محرومی کی خاطر اپنے آپ کو ابدی محرومی کا مستحق بنانا ہے، اور بلاشبہ وہ کوئی مومن اس تباہ کن روش کا تحمل نہیں کر سکتا۔ کوئی نقصان، نقصان نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنے مشن کا آغاز کیا۔ 13 سال کے بعد آپ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے۔ ہجرت کے تیسرے سال غزوہ احد پیش آیا۔ یہ غزوہ مدینے سے باہر جبل احد کے پاس ہوا تھا۔ اس غزوہ میں 70 صحابہ شہید ہو گئے۔ غزوہ احد کے واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ بنودینار کی ایک مسلم خاتون السُمیر ابنت قیس کے گھر کے تین افراد اس غزوہ میں مارے گئے تھے۔ ان کے باپ، ان کے شوہر، ان کے بھائی۔ جب اس خاتون کو خبر دی گئی کہ تمھارے گھر کے تین افراد اس جنگ میں شہید ہو گئے تو اس نے ہیچھا: فما فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا ہوا)۔ اس کو بتایا گیا کہ آپ محفوظ اور سلامت ہیں۔ اس کے بعد وہ چل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی۔ جب اس نے آپ کو دیکھا تو اس کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: کل مصيبة بعدك جلل (آپ کے بعد ہر مصیبت ہیچ ہے، اے خدا کے رسول) السیرة النبوية لابن هشام، جلد 3، صفحه 51 یہ صرف ایک صحابی خاتون کا ایک قول نہیں۔ یہ ایک صحابیہ کے اسوہ کی روشنی میں، امت محمدی کے ہر فرد کے لیے قابل تقلید نمونہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک صاحب ایمان کو، ایمان کے بعد اتنی بڑی دولت مل جاتی ہے کہ اس کے بعد ہر نقصان اس کو پوچ نظر آنے لگتا ہے۔ جب ایک شخص کو سچائی کی دریافت ہوتی ہے اور وہ ایک مومن انسان بن جاتا ہے تو یہ اس کے لیے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page