Al-Risala · March 2012 · page

نقصان برائے آزمائش

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

کوئی سادہ معاملہ نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اُس کو حقیقتِ اعلیٰ کی معرفت حاصل ہوگئی۔ اس نے اللہ رب العالمین کو پالیا۔ اس کو خاتم النبیین کی دریافت ہوگئی۔ اس کو قرآن کی شکل میں، اپنی زندگی کا ربانی ہدایت نامہ مل گیا۔ وہ فرشتوں کی صحبت کا مستحق بن گیا۔ اُس نے اُس صراطِ مستقیم کو جان لیا جس کو اختیار کر کے آدمی خدا کی رحمتوں کے سائے میں آجائے اور آخر کار وہ ابدی جنت میں پہنچ جائے۔ اس قسم کے آدمی کے لیے کوئی نقصان نقصان نہیں، کیوں کہ ہر نقصان کے با وجود اُس کو اتنا بڑا خزانہ ملا ہوا ہوتا ہے جو ہر نقصان کو اس کے لیے بے حقیقت بنا دیتا ہے۔ ایک سچا صاحب ایمان ہمیشہ یافت (finding) میں جیتا ہے۔ اس احساس کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ محرومی یا مایوسی کا لفظ سچے اہل ایمان کی ڈکشنری سے اس طرح گم ہو جاتا ہے، گویا کہ وہ موجود ہی نہیں۔ اسی حقیقت کی بنا پر اسلام میں مایوسی کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ مایوسی کو حرام قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ جب اس دنیا میں مایوسی کے اسباب نہیں تو کسی شخص کو یہ حق بھی حاصل نہیں کہ وہ مایوسی کے احساس میں زندگی گزارے۔ خدا میں جینا موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا کیس ایک لفظ میں یہ ہے کہ ؀ وہ خدا میں جینے والے نہیں بنے، وہ غیر خدا میں جی رہے ہیں۔ یہی واحد سبب ہے جس نے تمام مسلمانوں کو منفی سوچ (negative thinking) میں مبتلا کر دیا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں منفی سوچ اتنی زیادہ عام ہے کہ مشکل ہی سے اس میں کسی عورت یا مرد کا استثنا نظر آئے گا۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا لکھنا اور بولنا، سب کا سب ان کی منفی سوچ کا اظہار ہے۔

منفی سوچ کا سبب کیا ہے۔ منفی سوچ دراصل شکایت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ ہر مسلمان کسی نہ کسی کے خلاف شکایت کا جذبہ لئے ہوئے ہے— فلاں نے زمین پر قبضہ کر لیا، فلاں نے اپنی فوجیں مسلم ملک میں اتار دیں، فلاں نے اسلام کی بے حرمتی کر دی، فلاں نے ہم کو انصاف نہیں دیا، فلاں ہمارے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے، وغیرہ۔ آج کل ہر مسلمان اِس قسم کی شکایتوں میں جیتا ہے۔ اُنھیں شکایتوں نے ہر مسلمان کو منفی سوچ میں مبتلا کر دیا ہے۔ مگر منفی سوچ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ منفی سوچ کا مطلب دراصل

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page