نقصان برائے آزمائش
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲
یہ ہے کہ ــــ انسان نے کسی اور چیز کو وہ اہمیت دے دی جو اہمیت اسے خدا کو دینا چاہیے: Making one's concern something else other than God. خدا کو پانا سب سے بڑی چیز کو پانا ہے۔ جس آدمی کو خدا کی دریافت (discovery) ہوجائے، اس کی سوچ اتنی زیادہ بلند ہو جاتی ہے کہ ہر دوسری چیز اس کی نظر میں حقیر بن جاتی ہے۔ کسی چیز کا کھونا یا پانا دونوں اس کی نظر میں یکساں ہو جاتے ہیں۔ وہ اس نفسیات میں جینے لگتا ہے کہ ــــ تم جو چیز چاہو، مجھ سے چھین لو، لیکن تم خدا کو مجھ سے نہیں چھین سکتے:
You can take away from me whatever you want, but you cannot take God away from me!
یہ نفسیات ایک مومن کو انتہائی حد تک مثبت سوچ (positive thinking) والا انسان بنا دیتی ہے۔ کسی کے خلاف نفرت یا مایوسی کا ایک ذرہ بھی اس کے اندر باقی نہیں رہتا۔ وقت ضائع نہ کیجئے انسان دنیا میں کس لیے آیا ہے ــــ وہ اس لیے نہیں آیا ہے کہ یہاں وہ اپنی پسند کی حکومت قائم کرے ۔ وہ یہاں صرف اس لیے آیا ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو خالق کی پسند کے مطابق بنائے۔ انسان کو موجودہ دنیا میں صرف چند سال کی عمر ملی ہے۔ چند سال کی اس مدت میں کوئی دوسرا کام کرنا، اپنے آپ کو ہمیشہ کے لیے ضائع کر لینا ہے۔ صحیح استعمال صرف وہ ہے جو موت کے بعد کام آئے۔ موت کے بعد صرف وہ انسان کامیاب قرار دیا جائے گا جس نے موت سے پہلے کی زندگی میں اپنے آپ کو خالق کی پسند کے مطابق بنایا ہو۔
خالق کی پسند کیا ہے، کشمیر جیسا علاقہ اس کا ایک زندہ نمونہ ہے۔ کشمیر کی وادیوں میں جاری چشمے خالق کی پسند کا اعلان کر رہے ہیں۔ یہاں کے ہرے بھرے درخت اپنی خاموش زبان میں خالق کی پسند کو بتا رہے ہیں، یہاں کی فضاؤں میں اڑتے ہوئے پرندے خالق کی پسند کا چرچا کر رہے ہیں، یہاں کے خوب صورت پہاڑوں میں خالق کی پسند کا نغمہ گونج رہا ہے۔ یہاں کی مسحور کن فضاؤں میں ہر طرف خالق کی پسند کا جلوہ دکھائی دیتا ہے۔ کشمیر گویا فطرت کی زبان میں خالق کا کلام ہے۔ کشمیر کے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues