Al-Risala · March 2012 · page

پتھر سے قرآن تک

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

ماحول میں انسان خالق کے پڑوس کا تجربہ کرتا ہے۔

کشمیر کی سرزمین میں پیدا ہونے والے ہر انسان کا پہلا فرض ہے کہ وہ خالق کی اس زندہ کتاب کو پڑھے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی تشکیل کرے۔ جو لوگ یہ کام نہ کریں، اُن کے لیے موت کے بعد صرف یہ انجام سامنے آئے گا کہ وہ ابدتک حسرت میں جیتے رہیں۔ اُن کے حصے میں صرف یہ مایوسانہ سوچ آئے کہ اُن کا کیس صرف مواقع کے استعمال سے محرومی کا کیس تھا: Mine was a case of missed opportunities. دنیا میں کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ آدمی یہاں اپنی شخصیت کو جنتی شخصیت بنائے، تاکہ آخرت میں اس کو اللہ کی ابدی جنت میں داخلہ ملے۔ موجودہ دنیا جنت کی تعمیر کی جگہ نہیں ہے، بلکہ وہ جنتی شخصیت کی تعمیر کی جگہ ہے۔ اس دنیا میں جنتی شخصیت کی تعمیر ہی وہ کام ہے جس کے لیے انسان کو عمل کرنا چاہیے: لمثل هذا، فليعمل العاملون (61: 37)۔

پتھر سے قرآن تک

ایک کشمیری مسلمان نے کہا کہ - اکتوبر 1989 سے اکتوبر 2011 تک، ہم نے ایک لمبا راستہ طے کیا ہے۔ پہلے ہم آرمی کے اوپر پتھر مارتے تھے، اب ہم آرمی کے سامنے قرآن پیش کرتے ہیں۔ ایک کشمیری مسلمان کے یہ الفاظ کشمیر میں آنے والے نئے دور انقلاب کو بتا رہے ہیں، وہ کشمیر میں ایک نئے آغاز کی علامت ہیں۔ ایک بار جب تاریخ میں ایک صحت مند عمل (healthy process) شروع ہو جائے تو وہ جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی منزل تک پہنچ جائے۔ مذکورہ کشمیری مسلمان کے الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ - کشمیری مسلمان پہلے بے شعوری میں جی رہے تھے، اب انھوں نے شعور میں جینا سیکھ لیا ہے۔ کشمیری مسلمان پہلے نفرت میں جی رہے تھے، اب انھوں نے محبت میں جینا شروع کر دیا ہے۔ کشمیری مسلمان پہلے انسان کو اپنا حریف سمجھتے تھے، اب انھوں نے انسان کو اپنا مددگو سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ کشمیری مسلمان پہلے تشدد میں جی رہے تھے، اب انھوں نے امن میں جینے کا راز دریافت کر لیا ہے۔ کشمیری مسلمان پہلے شیطان کے کلچر کو اختیار کئے ہوئے تھے،

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page