Al-Risala · March 2012 · page

پتھر سے قرآن تک

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

اب انھوں نے فرشتوں کے کلچر پر چلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

شیطان کا کلچر کیا ہے، اللہ نے آدم (انسان) کو پیدا کیا اور ابلیس سے کہا کہ انسان کا اعتراف کرو۔ ابلیس نے ایک خود ساختہ عذر لے کر انسان کا اعتراف کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے برعکس، فرشتوں نے اللہ کے حکم کے مطابق، فوراً آدم کا اعتراف کر لیا۔ گویا شیطان نے آدم کی طرف پتھر پھینکے اور فرشتوں نے اس معاملے میں اپنے لیے خدا کے کلام کا انتخاب کیا۔

اس دنیا میں یہی انسان کا امتحان ہے۔ جو لوگ دوسرے کی طرف پتھر پھینکیں، وہ امتحان میں ناکام ہوئے۔ اس کے برعکس، جو لوگ دوسروں کا استقبال خدا کے کلام سے کریں، وہ کامیاب ٹھہرے، کیوں کہ انھوں نے وہ طریقہ اختیار کیا جو فرشتوں کا طریقہ ہے۔ کشمیر کے مسلمانوں کا یہ نیا فیصلہ، کشمیر کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ یہ تاریک رات کے بعد روشن صبح کے طلوع کا اعلان ہے۔ قرآن کی طاقت قرآن دلوں کو مسخر کرنے والی کتاب ہے۔ تاریخ میں کثرت سے اس کی مثالیں موجود ہیں جب کہ قرآن نے کسی فرد یا گروہ کے اندر اپنی نظریاتی طاقت سے، انقلاب پیدا کر دیا۔ قرآن، خدا کی کتاب ہے اور انسان، خدا کی مخلوق۔ قرآن کی یہی وہ صفت ہے جس نے قرآن کے اندر انسانوں کو مسخر کرنے کی صلاحیت پیدا کر دی ہے۔

اس معاملے کی ایک تاریخی مثال مصر ہے۔ دورِ اول کے مسلمان جب مصر میں داخل ہوئے، اُس وقت مصر کے لوگ قبطی زبان بولتے تھے، اور وہ شرک کے مذہب پر قائم تھے۔ قرآن کے اثر سے انھوں نے نہ صرف اپنے مذہب کو تبدیل کیا، بلکہ انھوں نے قرآن کی زبان (عربی) کو بھی اپنی زبان بنا لیا۔ مصریات کے ایک برٹش مورخ سر آرتھر کیتھ (Sir Arthur Keith) نے اس واقعے کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے— مصر کے لوگ تلوار سے مفتوح نہیں ہوئے، بلکہ وہ قرآن سے مفتوح ہوئے: The Egyptians were conquered not by the sword, but by the Quran.

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page