کشمیر کا خواب
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲
قرآن دوبارہ اپنے اس فاتحانہ کردار کو ادا کر سکتا ہے، بشرطیکہ قرآن کو ماننے والے غیر قرآنی سرگرمیوں کو چھوڑ دیں اور وہ قرآن کے پر امن پیغام کو دنیا کے لوگوں تک پہنچادیں۔ اسلام کی بہار جون 1989 میں ، میں نے کشمیر کا سفر کیا تھا۔ ایک کشمیری مسلمان نے بتایا کہ اس سفر کے دوران میں نے سری نگر کی ایک مجلس میں کہا تھا کہ کشمیر میں مجھ کو اسلام کی بہار دکھائی دیتی ہے۔ کشمیر کے بارے میں یہ بات میں نے کشمیر کے بالفعل (actual) کو لے کر نہیں کہی تھی، یہ بات میں نے کشمیر کے بالقوہ (potential) کو لے کر کہی تھی۔
کچھ نادان لیڈروں نے کشمیریوں کے جذبات کو بھڑکا کر یہاں سیاست کی گرم ہوائیں چلا دیں، لیکن یہ بات کشمیریوں کے اصل مزاج کے مطابق نہیں۔ کشمیری لوگ اپنے مزاج کے اعتبار سے، امن پسند لوگ ہیں۔ اگر اُن کو صحیح رہنمائی مل جائے تو یقینی طور پر یہاں ایسا ہوگا کہ خزاں کے موسم کی جگہ بہار کا موسم آجائے۔ تشدد کی گرم ہواؤں کے بجائے یہاں امن کی ٹھنڈی اور خوش گوار ہوائیں چلنے لگیں۔ یہاں دوبارہ سیاسی اسلام کے بجائے، ربانی اسلام کا دور دورہ ہو جائے۔ کشمیر میں اسلام کی بہار آنے کا پورا امکان ہے، لیکن یہ امکان اپنے آپ واقعہ نہیں بن سکتا۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ اسلام کی پرامن تعلیمات کو یہاں کے لوگوں میں عام کیا جائے ۔ لوگوں کے درمیان شعوری تعمیر نو (intellectual re-engineering) کی تحریک چلائی جائے ۔ لوگوں کو بتایا جائے کہ نفرت اور تشدد اُن کے لیے کوئی انتخاب نہیں۔ اُن کے لیے انتخاب صرف ایک ہے، اور وہ امن اور محبت ہے۔ اسی میں ان کی دنیا کی کامیابی چھپی ہوئی ہے اور اسی میں اُن کی آخرت کی کامیابی بھی۔
کشمیر کا خواب
ایک مسلم نو جوان اگست 2008 میں نئی دہلی سے کشمیر گئے۔ وہاں وہ تین ہفتہ رہے۔ ان کی عادت ہے کہ وہ روزانہ اپنی ڈائری لکھتے ہیں۔ وہ کشمیر سے واپس آئے تو انھوں نے مجھ کو اپنی ڈائری
‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues