Al-Risala · March 2012 · page

کشمیر کا خواب

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

دکھائی۔ ان کی اس ڈائری کا ایک اندراج یہ تھا :

”4 اگست 2008 کی ایک رات کو میرا قیام کشمیر کے ایک تعلیمی ادارہ میں تھا۔ وہاں ادارے کے ایک طالب علم بھی موجود تھے۔ صبح کو میں بیدار ہوا تو مذکورہ طالب علم نے ماہ نامہ الرسالہ سے متعلق اپنا ایک خواب بیان کیا، جو اُنھیں کے الفاظ میں اس طرح تھا: ”میں نے دیکھا کہ ایک بوڑھا شخص ہے۔ اس کے چہرے پر ہلکی ہلکی سفید داڑھی ہے۔ وہ ان پڑھ ہے۔ وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ۔ مجھے الرسالہ کا ممبر بناؤ، مجھے الرسالہ کا ممبر بناؤ۔ “ اس خواب میں مذکورہ بوڑھا آدمی گویا کشمیر کی روح ہے۔ کشمیر کی روح چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ جو منفی افکار میرے درمیان پھیلائے جا رہے ہیں، اُن سے میں بے زار ہوں، ان کو بند کرو۔ میرے درمیان الرسالہ کو پھیلاؤ، میرے درمیان الرسالہ والے مثبت افکار کو عام کرو۔ کشمیر میں اکتوبر 1989 میں ممتشددانہ تحریک کا آغاز ہوا۔ اس تشددانہ تحریک کے دوران کشمیر میں جان و مال کا بے حساب نقصان ہوا ہے۔ اس خود ساختہ جہاد نے کشمیر کو تباہی کے سوا اور کچھ نہیں دیا۔ اب کشمیر کی سلامتی کی صرف ایک صورت ہے، اور وہ یہ ہے کہ کشمیر میں اَن افکار کو زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے جس کا پیغام ماہ نامہ الرسالہ میں مسلسل طور پر دیا جا رہا ہے۔ اسی میں کشمیر کے لیے زندگی ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے، وہ موت اور تباہی کے سوا کچھ اور نہیں۔ نام نہاد کشمیری تحریک سے کچھ لیڈروں کو فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن خود کشمیر یا کشمیری عوام کا اس میں کچھ فائدہ نہیں۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ اس معاملے میں نظر ثانی کی جائے اور جذباتیت کو چھوڑ کر حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ دعوتی طرزِ فکر ایک کشمیری مسلمان ہمارے دعوتی مشن سے وابستہ ہیں۔ انھوں نے ٹیلی فون پر بتایا کہ 23 ستمبر 2010 کو کشمیر میں پبلک انٹریکشن(Public (Public Interaction) کے عنوان کے تحت حکومت کی طرف سے ایک پروگرام ہوا۔ اس میں انڈین آرمی کے اعلی افسران اور مقامی مسلمان موجود تھے۔ اس پروگرام کے مہمانِ خصوصی مسٹر گردیپ سنگھ، جنرل کمانڈنگ آفیسر (GCO) اور مسٹر انل پانڈے (بریگیڈیر) تھے۔ مذکورہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page