کشمیر کا خواب
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲
ساتھی نے بتایا کہ اس موقع پر ایک کشمیری مسلمان نے اپنا ذاتی تاثر بیان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مسئلہ کشمیر کو تجارت بنا لیا ہے، یہ لوگ اب کشمیر کے نام پر صرف سیاسی تجارت کر رہے ہیں۔ میں نے مذکورہ مسلمان سے کہا کہ میں نے بھی قرآن (11-61:10) کے مطابق، ایک تجارت شروع کی ہے۔ اس کے بعد ہمارے ساتھی پبلک انٹریکشن کے اس پروگرام میں قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر لے کر پہنچے۔ وہاں انھوں نے لوگوں کو مطالعہ کے لیے قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔ انھوں نے مسٹر گردیپ سنگھ اور مسٹر انل پانڈے کو ترجمہ قرآن کے علاوہ، ہمارے یہاں سے شائع ہونے والی کتاب ’’پرافٹ آف پیس‘‘ مطالعہ کے لیے دی۔ اس کے بعد مسٹر گردیپ سنگھ نے اپنی تقریر میں کہا کہ حال میں، قرآن برننگ کے اشو کو لے کر آپ لوگوں نے کشمیر میں ہنگامہ کیا، جس کے نتیجے میں یہاں 17 نوجوان ہلاک ہو گئے۔ مسٹر گردیپ سنگھ نے قرآن کو اپنے ہاتھ میں لے کر کہا کہ آپ لوگ قرآن کے نام پر تشدد (violence) کرتے ہیں۔ مجھ کو بتائیے کہ قرآن کی کس آیت میں تشدد کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سوال پر تمام مسلمان خاموش رہے۔
اگر آدمی کے اندر دعوتی ذہن موجود ہو تو وہ اس قسم کے ہر موقع کو دعوت کے لیے استعمال کرے گا، وہ ایسے موقع پر اللہ کے بندوں کو اللہ کے کلام کا تحفہ پیش کرے گا۔ اس کے برعکس، اگر آدمی کا ذہن دعوتی طرز فکر سے خالی ہو تو اس کو ایسا ہر دعوتی موقع محض ’’سیاست‘‘ کا ایک اسٹیج معلوم ہوگا۔ ایسے موقع پر دوسروں کو دینے کے لیے اس کے پاس صرف نفرت کا تحفہ ہوگا، نہ کہ محبت کا تحفہ۔ دورِ جدید: دورِ مدعو قدیم زمانے میں عالمی سیاحت (tourism) کا کوئی تصور نہ تھا۔ اس لیے کہ قدیم زمانے میں سفر کے ذرائع موجود نہیں تھے۔ موجودہ زمانے کو دور مواصلات (age of communication) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں سفر کے وسائل اور جغرافیہ کے علم کی بنا پر ایسا ہوا کہ سفر بہت زیادہ بڑھ گیا۔ لوگ بڑی تعداد میں ادھر سے اُدھر جانے لگے، یہاں تک کہ کہا جانے لگا کہ موجودہ زمانے میں پوری دنیا ایک عالمی گاؤں (global village) بن گئی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues