دو بہتر میں سے ایک
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲، صفحہ ۵۶
دعوت کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اسفار کی کثرت کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ محض مسافروں کی نقل و حرکت (mobility) نہیں، بلکہ وہ مدعو کی نقل و حرکت ہے۔ جدید کمیونیکیشن سے پہلے داعی اور مدعو کے درمیان فاصلہ ہوا کرتا تھا۔ اب یہ حال ہے کہ مدعو خود تیز رفتار سواریوں کے ذریعے سفر کر کے داعی کے پاس پہنچ رہا ہے۔ مختلف اسباب سے، داعی اور مدعو کے درمیان مادی اور ذہنی فاصلے ختم ہو چکے ہیں۔ اس اعتبار سے، جدید دور کو مدعو کا دور کہا جائے تو وہ بالکل درست ہوگا۔ یہ صورتِ حال پوری دنیا میں پیش آئی ہے۔ مگر جو علاقے سیاحتی علاقے کہے جاتے ہیں، ان کے بارے میں یہ بات مزید اضافے کے ساتھ درست ہے۔ انھیں علاقوں میں سے ایک علاقہ ریاست جموں وکشمیر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جموں وکشمیر میں جتنی زیادہ آبادی ہے، تقریباً اتنے ہی سیاح (tourist) وہاں ہر سال پہنچتے ہیں، ریاست جموں وکشمیر کے مسلمانوں کو یہ خصوصی موقع حاصل ہے کہ وہ مدعو کے اس گروہ کو اللہ کا پیغام پہنچائیں۔ اس کام کے لیے سب سے زیادہ آسان طریقہ یہ ہے کہ قرآن کا ترجمہ اور دوسری اسلامی کتابیں اُن کو پڑھنے کے لیے دی جائیں۔ مدعو کا یہ گروہ ریاست جموں وکشمیر کے ہر علاقے میں موجود رہتا ہے۔ اگر کشمیری مسلمانوں کے اندر دعوت کی اسپرٹ زندہ ہو تو وہ اپنے قریبی مقامات پر صبح و شام دعوت کے مواقع پا جائیں گے۔
دو بہتر میں سے ایک
دعوت الی اللہ کا مشن ایک خدائی مشن (divine mission) ہے۔ ایسے ایک مشن کے لیے قرآن میں، إحدى الحسنيين (9:52) کی خوش خبری دی گئی ہے، یعنی اس کے لیے یہ مقدر ہے کہ دو میں سے ایک بہتر (one of the two best things) اُس کو ضرور حاصل ہو۔ پہلا بہتر نظریاتی ہے، اور دوسرا بہتر عملی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ سچے خدائی مشن کے لیے دو میں سے ایک کامیابی مقدر ہے— یا تو کامیابی بہ معنی تبلیغ، یا کامیابی بہ معنی انقلاب۔
موجودہ زمانے میں جن مقامات پر جہاد کے نام سے تشدد کا کلچر چلایا گیا، وہاں فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ ایسے لوگ اُٹھیں جو اِس کی اصلاح کی کوشش کریں، جو ان مسلمانوں کو اُن کی
‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues