دو بہتر میں سے ایک
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲
غلطی سے آگاہ کریں، جو اُن کو تشدد سے امن کی طرف بلائیں، جو اُن کو بتائیں کہ تمھارا کام لوگوں کو حق کی دعوت دینا ہے، نہ کہ اُن سے ٹکراؤ کرنا۔ تمھارا ایمانی فریضہ ہے کہ تم، لوگوں کے ساتھ مدعو کا سلوک کرو، نہ کہ دشمن کا سلوک۔ تم کو چاہیے کہ تم اپنے ماحول میں خیر خواہی کا کلچر چلاؤ، نہ کہ نفرت اور رقابت کا کلچر۔ اس قسم کی مہم دوسرے مسلم علاقوں میں بھی ضروری ہے اور کشمیر میں بھی ضروری۔ اس قسم کی مہم اس یقین کے ساتھ شروع کی جاسکتی ہے کہ اس کے لیے ناکامی کا کوئی سوال نہیں۔ اس مہم کے کارکنوں کے لیے یقینی طور پر دو میں سے ایک انجام مقدر ہے— یا تو وہ لوگوں تک اپنی بات پہنچانے میں کامیاب ہوں گے اور اللہ کے یہاں اُس کا عظیم انعام حاصل کریں گے، یا ایسا ہوگا کہ لوگ ان کی بات کو مان لیں اور وہ عملی اعتبار سے اپنی زندگی کو بدلنے پر راضی ہو جائیں۔ یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں ’إحدى الحسنيين‘ کہا گیا ہے، یعنی یا تو نظریاتی اعتبار سے، دعوت حق کی کامیابی، یا عملی اعتبار سے لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب لانے کی کامیابی۔ غیر نہیں، مدعو عام طور پر لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ انسانوں کو ’اپنے‘ اور ’غیر‘ میں تقسیم کرتے ہیں، مگر اسلام کا طریقہ یہ نہیں۔ اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ انسانوں کو مدعو کی نظر سے دیکھا جائے ۔ اپنے اور غیر کی تقسیم میں ، اپنا قابل محبت نظر آتا ہے، اور دوسرا قابل نفرت دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہی موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اس حقیقت کو بھول گئے ہیں کہ اپنے عقیدہ کے اعتبار سے، وہ داعی ہیں اور دوسرے تمام انسان ان کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ داعی۔ مدعو کی تقسیم میں کوئی غیر نہیں رہتا، بلکہ سارے انسان اپنے نظر آنے لگتے ہیں۔
آج کل عام طور پر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ دوسری قوموں کو اپنا حریف (rival) بنائے ہوئے ہیں۔ اگر وہ دوسری قوموں کو اپنا مدعو سمجھیں تو تمام انسان ان کو اپنے نظر آنے لگیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی شخص کے جنازے کو دیکھ کر فرمایا تھا کہ یہود بھی ہماری طرح انسان ہیں (صحیح البخاري، رقم الحديث : 1312)۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues