Al-Risala · March 2012 · page

دو بہتر میں سے ایک

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

مسلمان اس اسوۂ رسول کو اختیار کر لیں تو تمام قوموں کے لوگ ان کو اپنے نظر آنے لگیں گے۔ کشمیر یوں کو ہندواپنا نظر آئے گا، عربوں کو اسرائیلی اپنا دکھائی دے گا، مغربی ملکوں میں مقیم مسلمان وہاں کے عیسائیوں کو اپنا سمجھنے لگیں گے، وغیرہ۔

دوسروں کو اپنا سمجھنے کا مطلب دوسروں کا خیر خواہ بننا ہے۔ ایک تاجر ہر انسان کو اپنا کسٹمر سمجھتا ہے۔ اس مزاج کے نتیجے میں تاجر کے اندر ہر ایک کے لیے دوستانہ سلوک (friendly behaviour) پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح مسلمان اگر اپنے کو داعی اور دوسروں کو مدعو سمجھیں تو ان کے اندر دوسروں کے لیے خیر خواہی (well-wishing) کے جذبات پیدا ہوں گے۔ اُن کے اندر تمام انسانوں کے لیے دوستانہ کلچر (friendly culture) پرورش پائے گا۔ اس کے نتیجے میں ان کی دنیا کے معاملات بھی درست ہو جائیں گے اور آخرت میں بھی وہ خدا کی رحمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ نظریے کی طاقت روس میں اشتراکی انقلاب 1917 میں پیش آیا۔ اس سے پہلے روس میں بادشاہ کی حکومت تھی جس کو زار (Czar) کہا جاتا تھا۔ اُس وقت کمیونسٹ پارٹی نے زار کے خلاف ایک نظریاتی جنگ شروع کی۔ یہ نظریاتی جنگ بہت تیزی سے پورے ملک میں پھیلنے لگی۔

برطانیہ نے اس کو اپنے لیے ایک خطرہ سمجھا۔ چناں چہ کرنل بیلی (Colonel F M Bailey) کی قیادت میں ایک وفد روس بھیجا گیا۔ یہ وفد وہاں تاجر کے روپ میں گیا تھا۔ اس وفد نے روس کے حالات کا جائزہ لے کر جور پورٹ حکومت برطانیہ کو پیش کی، اُس کا ایک جملہ یہ تھا—اشتراکی نظریات جو یہاں پھیلائے جا رہے ہیں، وہ زار کی پوری فوج سے زیادہ خطر ناک ہیں: Communist ideas are far more dangerous than the entire army of king Czar. تاریخ میں اس طرح کے متعدد واقعات ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ فوجی طاقت کے مقابلے میں، نظریے کی طاقت زیادہ بڑی ہوتی ہے۔ اسلام کی تاریخ اِس حقیقت کی ایک ممتاز مثال ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page