Al-Risala · March 2012 · page

دو بہتر میں سے ایک

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

قدیم تاریخ میں اسلام کی کامیابی ہمیشہ نظریہ یا آئیڈیالوجی (ideology) کی بنیاد پر ہوئی ہے، نہ کہ تلوار یا فوجی طاقت کی بنیاد پر۔

مثال کے طور پر تیرھویں صدی عیسوی میں تاتاری قبائل کے حملے نے عباسی سلطنت کو مغلوب کر لیا۔ یہ غلبہ اتنا شدید تھا کہ مسلمانوں کی فوجی طاقت اس کے مقابلے میں غیر مؤثر ثابت ہوئی۔ اُس وقت اسلام کی نظریاتی طاقت ابھری۔ صرف نصف صدی کے اندر یہ واقعہ پیش آیا کہ تاتاری قبائل کی اکثریت نے اسلام قبول کر لیا۔ اسلام کے دشمن، اسلام کے دوست بن گئے۔

اسلام کی اس نظریاتی طاقت کو ایک مستشرق نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے— مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کر لی، جہاں اُن کی تلوار نا کام ہو چکی تھی:

The religion of Muslims has conquered, where their arms had failed. شہادتِ حق، دعوتِ حق کلمہ شہادت، اسلام میں داخلے کا دروازہ ہے۔ ایک شخص جب اسلام کی سچائی کو دریافت کرتا ہے اور اس کے اندر یہ جذبہ جاگتا ہے کہ وہ حشر کے دن اللہ کے سامنے ایک مسلم کی حیثیت سے حاضر ہو تو وہ اپنی زبان سے یہ کلمہ ادا کرتا ہے : أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی اور الہ نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد، اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں)۔

اس کلمہ کے دو پہلو ہیں— شہادت، اور انطباقی شہادت (applied shahadah) ۔ شہادت کا ابتدائی مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی اپنی ذات کے اعتبار سے، اس بات کا اعلان کرے کہ اس کائنات کا خالق اور مالک صرف ایک اللہ ہے، وہ اس حقیقت اعلیٰ کا گواہ (witness) بن جائے۔ اس شہادت کا دوسرا پہلو انطباقی شہادت ہے، یعنی دوسرے انسانوں کو اس حقیقت سے باخبر کرنا۔ اس بات کی کوشش کرنا کہ جس حقیقت اعلیٰ کو اُس نے دریافت کیا ہے، اُس حقیقت اعلیٰ سے کوئی بھی شخص

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page