The official language of CPS is English.
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲
سفر میں جاری رہا۔ مسلمانوں کے اندر اگر دعوتی مزاج ہو تو یقیناً وہ جان لیں گے کہ ان کے پاس دوسروں کو پیش کرنے کے لیے جو سب سے بڑی چیز ہے، وہ قرآن ہے۔
18 جون 2011 کی صبح کو خواجہ کلیم الدین صاحب کی رہائش گاہ پر فجر کی نماز کے بعد مجلس میں کئی لوگ جمع ہوگئے۔ یہاں مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ یہاں جو باتیں ہوئیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ قرآن (64: 3) میں کلمۂ سواء (religious common ground) کی تعلیم دی گئی ہے۔ یہ ایک عمومی اصول ہے۔ اس کو جنرلائز کرنے کی ضرورت ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ موجودہ زمانے میں داعی اور مدعو کے درمیان امن (peace) کی حیثیت اسی کلمہ سواء کی ہے۔ آج کے حالات میں ہم کو چاہیے کہ امن کو کامن گراؤنڈ بنا کر لوگوں کے درمیان دعوہ ورک کریں۔ امریکا میں یہ رواج ہے کہ لوگ کار کے ذریعے لمبی لمبی دوری کا سفر کرتے ہیں۔ اس کے مطابق، امریکا کے زمانہ قیام میں مختلف مقامات پر بہت سے پروگرام بنائے گئے۔ ان تمام مقامات پر مجھ کو کار کے ذریعے جانا تھا۔ یہ پروگرام زیادہ تر لوگوں کے گھروں پر تھے۔ اس میں زیادہ تر یہ ہوتا تھا کہ صاحب خانہ کے یہاں پروگرام کے ساتھ کھانے کا بھی انتظام ہوتا تھا۔ لوگ وہاں جمع ہو کر کھانا کھاتے اور پھر پروگرام میں شریک ہوتے۔
فلِیڈ یلفیا کے سینٹ پال چرچ کی دعوت پر 18 جون 2011 کو وہاں مجھے ایک تقریر کرنے کا موقع ملا۔ حاضرین میں چند یہودی سامعین تھے اور زیادہ تر مسیحی۔ مجھے تقریر کا جو موضوع دیا گیا تھا، وہ یہ تھا: Peaceful Activism in Islam. میں نے قرآن اور حدیث کے حوالے سے انگریزی زبان میں اس موضوع پر ایک تقریر کی۔ آخر میں سوال وجواب کا پروگرام تھا۔ ایک کرسچن فادر نے سوال کیا کہ عیسیٰ مسیح نے کہا ہے کہ ــــ اپنے دشمن سے محبت کرو: Love your enemies (Luke 6:35)
انھوں نے کہا کہ کیا قرآن میں بھی اس طرح کی کوئی تعلیم پائی جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ ہاں۔ پھر میں نے قرآن کی سورہ حم السجدہ کی وہ آیت پڑھی جس کا ترجمہ یہ ہے:
‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues