عظمتِ خداوندی کی دریافت
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۲، صفحہ ۷
عظمتِ خداوندی کی دریافت
مشہور امریکی باکسر محمد علی کلّے (پیدائش: 1942) کو جب ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپین (World Heavy Weight Champion) کا خطاب ملا تو انھوں نے کہا کہ میں دنیا کا بادشاہ ہوں : I am the king of the world. یہی کم وبیش ہر عورت اور ہر مرد کا حال ہے۔ ہر آدمی صرف اپنی ذاتی بڑائی (self glory) کو جانتا ہے۔ کسی نے خدا کی بڑائی کو دریافت نہیں کیا۔
انسان کا وجود ایک تخلیقی معجزہ ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے وجود کو ڈوائن گلوری (divine glory) کے طور پر دریافت کرے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے وجود میں صرف ذاتی عظمت (self glory) کو دیکھتا ہے، وہ اپنے وجود میں خدا کی عظمت کو دریافت نہیں کر پاتا۔ یہ بلاشبہ تاریخِ انسانی کا سب سے بڑا المیہ ہے۔
مشہور فرانسیسی فلسفی رینے ڈیکارٹ (وفات: 1650) نے اپنے مشہور قول میں کہا تھا کہ — میں سوچتا ہوں ، اس لیے میں ہوں (I think, therefore, I exist)۔ یہ کسی انسان کے لیے خود اپنی دریافت کا معاملہ ہے۔ لیکن زیادہ بڑی بات یہ ہے کہ آدمی اپنے وجود میں خدا کے وجود کو دریافت کرے ۔ وہ یہ کہہ سکے کہ — میں موجود ہوں ، اس لیے خدا بھی یقیناً موجود ہے : I am, therefore, God exists یہی معرفت کا آغاز ہے۔ انسان سب سے پہلے اپنی موجودگی کی صورت میں ، خدا کی موجودگی کو دریافت کرتا ہے۔ اس دریافت کے بعد اس کے لیے دریافتوں کا لامتناہی دروازہ کھل جاتا ہے۔ ہر نئی دریافت اس کی معرفت میں اضافہ کرتی رہتی ہے۔ اس طرح، انسان کے عارفانہ شعور میں مسلسل ترقی ہوتی رہتی ہے۔ معرفت کا لامحدود خزانہ اُس پر انفولڈ (unfold) ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ انسان یقین اور معرفتِ خداوندی کے اعلیٰ درجے تک پہنچ جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2012 All issues