Al-Risala · April 2012 · page 8

امتِ وسط: فضیلت یا ذمے داری

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۲، صفحہ ۸

امتِ وسط: فضیلت یا ذمے داری

قرآن کی سورہ البقرہ میں امتِ محمد کو 'امتِ وسط' (143 :2) کہا گیا ہے، یعنی بیچ کی امت، (middle community)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امتِ محمدی، رسول اور عام انسانوں کے درمیان ہے۔ اُس کو رسول سے جو خدائی ہدایت ملی ہے، اس کو نسل در نسل تمام انسانوں تک پہنچانا ہے۔ اس سے مراد وہی مستقل ذمے داری ہے جس کو دعوت الی اللہ کہا جاتا ہے۔ اکثر الفاظ کا ایک لغوی مفہوم ہوتا ہے اور دوسرا اُس کا استعمالی مفہوم۔ 'وسط' کا لغوی مفہوم یا اصل مفہوم دو کناروں کے درمیان (بين طرفي الشيئ) ہوتا ہے۔ اُس کا ایک استعمالی مفہوم بہتر چیز (الخير) کے معنی میں ہے۔ قرآن کی اس آیت میں 'وسط' کا لفظ استعمالی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ اس کے اصل معنی میں ہے، یعنی درمیانی امت کے معنی میں۔ اس آیت میں امتِ وسط کا لفظ امت کے مشن یا اس کی داعیانہ ذمے داری کو بتا رہا ہے، وہ ہرگز کسی قسم کی پراسرار فضیلت کے معنی میں نہیں۔

قرآن کی اس آیت میں امتِ محمدی کے داخلی اوصاف کو بیان نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس میں امت کی خارجی ذمے داری کو بیان کیا گیا ہے۔ وہ خارجی ذمے داری یہ ہے کہ وہ اللہ کے نقشہ تخلیق (creation plan of God) سے لوگوں کو باخبر کرے۔ وہ ہر زمانے اور ہر نسل میں اس دعوتی کام کو جاری رکھے۔ یہ دعوتی مشن ہی وہ مشن ہے جس کی ادائیگی پر امتِ محمدی کا 'امتِ محمدی' ہونا متحقق ہوتا ہے۔ دعوت الی اللہ کی یہ ذمے داری امتِ محمدی کے ہر فرد پر اسی طرح فرض ہے جس طرح اس کے اوپر نماز اور روزہ فرض ہے۔ تاہم اس کی عملی صورت کا تعین ہر فرد کی ذاتی استطاعت کے اعتبار سے ہوگا۔ جو فرد جس درجہ یا جس نوعیت کی استطاعت رکھتا ہو، اسی کے اعتبار سے اُس کو دعوت الی اللہ کا یہ فرض انجام دینا ہوگا۔ جو شخص عمل کی استطاعت رکھتا ہو، وہ عمل سے اُس میں شرکت کرے۔ جو شخص مال کے اعتبار سے استطاعت رکھتا ہو، وہ مال کے اعتبار سے اس میں شرکت کرے، وغیرہ۔ بالفرض اگر کوئی شخص ان میں سے کسی چیز کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ انسانوں کا سچا خیر خواہ بنے اور مدعو کی ہدایت کے لیے دل سے دعائیں کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2012 All issues

Printed page