مثبت جواب
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۲، صفحہ ۹
مثبت جواب
ہجرتِ رسول کے تیسرے سال مدینہ میں قریش اور اہلِ اسلام کے درمیان ایک جنگ ہوئی جو غزوہ احد کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں بعض اسباب سے اہلِ ایمان کو شکست ہوئی۔ تقریباً 70 مسلمان مارے گئے۔ بہت سے زخمی ہوئے۔ زخمی ہونے والوں میں خود پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم شامل تھے۔ جنگ کے خاتمے پر قریش کے سردار نے فخر کے ساتھ اپنی فتح کا کریڈٹ اپنے بت عزیٰ کو دیتے ہوئے کہا: لنا العزیٰ، ولا عزیٰ لكم (ہمارے پاس عزیٰ ہے، اور تمھارے پاس کوئی عزیٰ نہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پر صحابہ نے ان الفاظ میں اس کا جواب دیا: الله مولانا، ولا مولى لكم (صحيح البخاري، رقم الحديث: 4043) اللہ ہمارا مولا ہے، اور تمھارا کوئی مولا نہیں۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ وہ زندگی کا ایک عمومی اصول ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر فریق ثانی کوئی مشتعل انگیز بات کہے تو تم اس کے جواب میں خود اشتعال نہ ہو، بلکہ مثبت انداز میں اس کا جواب دو۔ فریق ثانی کی طرف سے خواہ کچھ بھی کیا جائے، تمھارا طریقہ مثبت ردعمل کا طریقہ ہونا چاہئے، نہ کہ منفی ردعمل کا طریقہ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے صحابہ نے فریق ثانی کو جو جواب دیا، اُس میں بہ یک وقت دو فائدے تھے— ایک، یہ کہ صحابہ نے اپنے آپ کو منفی ردعمل کی نفسیات سے بچالیا، اور منفی ردعمل سے بچانا ہی تزکیہ نفس کا اصل ذریعہ ہے۔ منفی ردعمل آدمی کے نفس کو آلودہ کرتا ہے اور مثبت ردعمل آدمی کے نفس کو پاک کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔
اس طرح مثبت جواب دینے کا دوسرا فائدہ یہ تھا کہ قول محض قول نہ رہا، وہ ایک دعوت کا قول بن گیا۔ اِس کے ذریعے صحابہ نے فریق ثانی کو یہ پیغام دیا کہ شرک کا عقیدہ ایک بے بنیاد عقیدہ ہے۔ صحیح اور درست عقیدہ یہ ہے کہ آدمی اللہ واحد کو مانے اور اِسی سے ہر قسم کے خیر کی امید رکھے۔ ساری طاقت کا مالک اللہ ہے۔ کسی کو جو کچھ ملتا ہے، وہ صرف اللہ سے ملتا ہے، نہ کہ کسی اور سے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2012 All issues