امن کی وادی
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۲، صفحہ ۲۲
امن کی وادی
کشمیر میں ہر طرف فطرت کے مناظر ہیں— سرسبز درخت، پانی کے چشمے، بہتے ہوئے دریا، چڑیوں کی چہچہاہٹ، پھلوں اور پھولوں کی بہاریں، اِس طرح پورا کشمیر فطرت کا گارڈن نظر آتا ہے۔ کشمیر کا یہ سرسبز ماحول اپنی خاموش آواز میں پکار رہا ہے کہ یہاں نفرت اور عداوت کے لیے کوئی جگہ نہیں، یہاں تشدد کا کلچر چلانا خدا کے تخلیقی منصوبہ کے خلاف ہے، اور جو چیز خدا کے تخلیقی منصوبہ کے خلاف ہو، وہ کبھی خدا کی اِس دنیا میں کامیاب ہونے والی نہیں۔ کشمیر میں 2012 کے موسم سرما میں بڑی مقدار میں اسنو فال (snow fall) ہوا۔ اسنو فال ایک خوب صورت فطری ظاہرہ (natural phenomenon) ہے۔ کسی نے درست طور پر کہا ہے کہ اسنو فال ایک قسم کی روحانی بارش (spiritual rain) ہے۔ 13 فروری 2012 کو ایک کشمیری مسلمان کی طرف سے موبائل پر ہمارے ایک ساتھی کو یہ میسج (SMS) ملا— کشمیر اس وقت اسنو فال کی وجہ سے سفید ہو رہا ہے۔ سفیدی، امن کی علامت ہے۔ یہ فطرت کا سبق ہے، اور فطرت کے اِس پیغام کی خلاف ورزی صرف تباہی تک پہنچانے والی ہے: Today Kashmir is white due to snow fall. White is the symbol of peace. This is the lesson from nature, and violation of the law of nature always leads to destruction. کشمیری مسلمان کا یہ پیغام گویا کشمیر کی روح کی ایک پکار ہے۔ کشمیر کی روح، فطرت کی زبان میں یہ پکار رہی ہے کہ کشمیر اپنی تخلیق کے اعتبار سے، امن کی ایک وادی ہے۔ کشمیر کو اس کے خالق نے اس لیے چنا ہے کہ وہ دنیا کو امن کا پیغام دے۔ وہ فطرت کا ایک ایسا گہوارا بنے جہاں سے خدا کے بندوں کو امن اور انسانیت کا پیغام ملے— یہی کشمیر کا اصل رول ہے، اہل کشمیر کے لیے ترقی اور کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ خدا کے عطا کئے ہوئے اپنے اس رول کو پہچانیں اور اُس کو بھر پور طور پر انجام دیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2012 All issues