یہ وعدہ خلافی کا معاملہ نہیں
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۲، صفحہ ۲۳
یہ وعدہ خلافی کا معاملہ نہیں
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینہ میں خلافت کے سوال پر مہاجرین اور انصار کے درمیان اختلاف پیدا ہوا۔ انصار کا یہ کہنا تھا کہ منا أمير، ومنكم أمير (ایک امیر مہاجرین میں سے اور ایک امیر انصار میں سے)۔ آخر کار حضرت عمر کے اس قول پر فیصلہ ہوا: نحن الأمراء، وأنتم الـوزراء (مہاجرین میں سے امیر ہوں اور انصار میں سے وزیر)۔ لیکن بعد کو اس وعدے پر عمل نہ ہو سکا۔ حضرت عمر فاروق نے اپنے آخری زمانے میں کہا کہ ہم نے انصار سے وعدہ کیا تھا کہ ہم خلافت کے کام میں انصار کو وزیر بنائیں گے، لیکن ہم ایسا نہ کر سکے: والله ما وفينا لهم، كما عاهدناهم عليه (مسند البزار، رقم الحديث: 281) یہ وعدہ خلافی کی بات نہ تھی، بلکہ وہ اجتماعی حکمت کی بات تھی۔ اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ جب کوئی وعدہ کیا جائے تو اُس کو پورا کیا جائے، مگر یہ حکم انفرادی معاملات کے لیے ہے۔ انفرادی معاملات میں ایک فرد کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر اپنے وعدے کو پورا کر سکے، اس لیے فرد کے اوپر یہ لازم ہے کہ جب وہ کسی سے وعدہ کر لے تو وہ اُس کو ہر حال میں پورا کرے، وہ کسی بھی عذر کی بنا پر اپنے وعدے کے خلاف عمل نہ کرے۔
مگر اجتماعی زندگی کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ جو وعدہ سیاسی اور اجتماعی زندگی سے تعلق رکھتا ہو، وہ عام معنوں میں ایک وعدہ نہیں ہوتا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، چوں کہ اجتماعی حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے، مختلف قسم کے تقاضے اُس کے اوپر فیصلہ کن طور پر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں، اس لیے اس قسم کے وعدے کبھی حتمی نہیں ہوتے، وہ حالات کے اعتبار سے بدلتے رہتے ہیں۔ اجتماعی وعدوں کے معاملے میں طرفین کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ حالات کے تقاضے کو سمجھیں ۔ وہ ابتدائی الفاظ پر اصرار کرنے کے بجائے بعد کے پیداشدہ حالات سے مطابقت پر راضی ہو جائیں ۔ اجتماعی زندگی کے معاملات کبھی آئیڈیل وزڈم (ideal wisdom) پر طے نہیں ہوتے، وہ ہمیشہ پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) پر طے ہوتے ہیں۔ یہی اسلام کا تقاضا ہے، اور یہی عقل کا تقاضا بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2012 All issues