'انا' کی دیوار
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۲، صفحہ ۳۷
یعنی خدا کی قسم، میں نہیں جانتا، خدا کی قسم، میں نہیں جانتا، اگر چہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ کیا کیا جائے گا میرے ساتھ اور کیا کیا جائے گا تمھارے ساتھ۔
قرآن کی اس آیت اور اس حدیثِ رسول سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ نجاتِ آخرت کا معاملہ سرتا سر اللہ کے فیصلے کا معاملہ ہے۔ ہمارے ایمان اور ہمارے عمل کی حیثیت صرف یہ ہے کہ وہ نجات کی عملی دعا ہے، وہ نجات کی قیمت نہیں۔ ہماری ذمے داری صرف یہ ہے کہ ہم ہر ایک کو یکساں طور پر اللہ کا پیغام پہنچائیں۔ جہاں تک آخرت کے انجام کی بات ہے، وہ تمام تر اللہ کا معاملہ ہے۔ وہ اللہ ہی ہے جو اپنے علم کی بنیاد پر ہر ایک کے لیے اُس کے اُخروی انجام کا فیصلہ کرے گا۔ 2- قرآن کی دوسری آیت جس کا آپ نے حوالہ دیا، اُس کا ترجمہ یہ ہے: ”بے شک جو لوگ مسلمان ہوئے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور صابی، اُن میں سے جو شخص ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور اس نے عمل صالح کیا، تو اُس کے لیے اُس کے رب کے پاس اجر ہے۔ اور اُن کے لیے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غم گین ہوں گے“ (2: 62)۔
اس آیت میں دراصل گروہی نجات کی تردید ہے۔ نجات کا تعلق کسی فرد کے ذاتی عمل سے ہے، نہ کہ مجرد کسی گروہ سے وابستہ ہونے کی بنا پر۔ اس معاملے میں مسلم گروہ کا بھی کوئی استثنا نہیں۔ یہاں مسلمانوں کو دوسرے مذہبی گروہوں سے الگ نہیں کیا گیا ہے، بلکہ مسلمانوں کا اور دوسرے پیغمبروں سے نسبت رکھنے والی امتوں کا ذکر ایک ساتھ کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گروہ ہونے کے اعتبار سے اللہ کے نزدیک سب برابر کا درجہ رکھتے ہیں۔ گروہ کے اعتبار سے، ایک گروہ اور دوسرے گروہ میں کوئی فرق نہیں۔ سب کی نجات کا ایک ہی محکم اصول ہے، اور وہ ہے— ایمان اور عملِ صالح۔ کوئی گروہ اپنے آپ کو خواہ مسلمان کہتا ہو، یا وہ اپنے آپ کو یہودی، یا مسیحی، یا صابی کہے، اُن میں سے کوئی بھی محض ایک مخصوص گروہ ہونے کی بنا پر خدا کے یہاں کوئی خصوصی درجہ نہیں رکھتا۔ درجے کا اعتبار صرف اس بات پر ہے کہ کس نے خدا کی منشا کے مطابق، اپنی عملی زندگی کو ڈھالا۔
یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ تاریخی اعتبار سے، نہ کہ مدارِ نجات کے اعتبار سے،
‹ Previous page Next page › Contents of April 2012 All issues