Al-Risala · January 2012 · page

Islam in the Modern Age

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲

کیا جائے۔ اس میں عبادت کے علاوہ تمام اخلاقی اوصاف شامل ہیں۔ مثلاً ڈسپلن ، حکمت (wisdom) اور زندگی کے اصول، وغیرہ۔

خواجہ کلیم الدین صاحب کے گھر کے باہر سڑک کے پاس ایک بڑے قسم کا ڈسٹ بن (dustbin) رکھا ہوا تھا۔ میں نے قریب جا کر دیکھا تو اس پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے : Waste Management امریکا میں کوڑا (waste) اٹھانے کا طریقہ یہ ہے کہ گھر والے خود اپنے گھر کا کوڑا نکال کر اپنے گھر کے باہر رکھے ہوئے ایک بند ڈسٹ بن (dustbin) میں رکھ دیتے ہیں۔ بعد کو ایک بند گاڑی آتی ہے اور اس کوڑے کو وہاں سے اٹھا کر لے جاتی ہے۔

ایک مجلس میں ایک صاحب نے کہا کہ انڈیا میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہ ہرگز نہیں۔ اصل یہ ہے کہ مسلمان اپنی نادانی کی قیمت ادا کرتے ہیں: Muslims are paying the price of their own unrealistic policies. مثلاً سڑک پر جب ہندوؤں کا جلوس نکلتا ہے تو مسلمان غیر ضروری طور پر اُن لوگوں سے یہ مانگ کرتے ہیں کہ جلوس کا راستہ بدلو۔ اس پر دونوں فرقوں کے درمیان ٹکراؤ ہوتا ہے اور فرقہ وارانہ فساد کی نوبت آ جاتی ہے۔ ایسی حالت میں عقل کا تقاضا یہ ہے کہ آپ جلوس کو نہ روکیں، وہ خاموشی سے گزر جائے گا اور فرقہ وارانہ فساد نہیں بھڑکے گا۔ مگر مسلمان عام طور پر ہر جگہ عقل کے اس امتحان میں ناکام ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں۔

ایک صاحب نے بعض منکرینِ حدیث کا تذکرہ کیا۔ میں نے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن ہمارے لیے کافی ہے، وہ بلاشبہ غلطی میں مبتلا ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حدیث، حکمتِ اسلام کا خزانہ ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ قرآن میں دینی احکام کا اصولی علم دیا گیا ہے اور اس کی تفصیلات حدیث سے معلوم ہوتی ہیں۔ یہ بات بجائے خود صحیح ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ حدیث، ربانی حکمت (divine wisdom) کو جاننے کا واحد مستند ذریعہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues

Printed page