Islam in the Modern Age
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲
امریکہ کے زمانہ قیام میں خواجہ کلیم الدین صاحب کی لڑکی مزائغم (18 سال) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ مئی 2011 میں وہ کالج کے ایک تعلیمی پروگرام میں ساؤتھ افریقہ گئیں ۔ وہاں انھیں چند شہروں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ انھوں نے ساؤتھ افریقہ کے بارے میں چند باتیں بتائیں۔ ایک بات انھوں نے یہ بتائی کہ ساؤتھ افریقہ میں حقوق انسانی (Human Rights) کے تحفظ کے لیے بہت سے قانون بنائے گئے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کو قانونی طور پر ہر قسم کا حق دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر یہاں کے قانون کے مطابق ، ایک وہ حق بھی ہے جس کو رائٹ ٹو پریگنینسی (Right to Pregnancy) کہا جاتا ہے۔ اس کو سن کر میں نے کہا کہ یہ موجودہ زمانے کا کمال سمجھا جاتا ہے کہ اس نے ہر ملک میں حقوق انسانی کے قوانین بنائے ۔ مگر کوئی یہ نہیں سوچتا کہ باعتبار نتیجہ اس قانون سازی کے بعد کیا ہوا۔ میڈیا کی خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی ملک میں حقوق انسانی کے قوانین جس طرح کاغذ پر لکھے ہوئے ہیں ، اس طرح وہ حقیقی انسانی زندگی میں واقعہ نہیں بنے۔
اصل یہ ہے کہ حقوق انسانی کا تحفظ قانون سازی کے ذریعہ نہیں ہوتا، بلکہ ذہن سازی کے ذریعہ ہوتا ہے۔ اس معاملے کا تعلق ایجوکیشنل ایکٹوزم سے ہے، نہ کہ لیگل ایکٹوزم سے۔ عجیب بات ہے کہ ساری دنیا میں حقوق انسانی کے نام پر ہیومن رائٹس ایکٹوزم کی دھوم ہے۔ آج کی دنیا کا ایک تلخ پہلو یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ایجوکیشن کو پروفیشنل سے وابستہ کر دیا گیا ہے، تعمیر شخصیت جدید ایجوکیشن کا موضوع نہیں۔ خواجہ کلیم الدین صاحب، حیدر آباد (انڈیا) میں 1952 میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے عثمانیہ یونی ورسٹی (حیدرآباد) سے بی ایس سی اور بھوپال یونیورسٹی سے ایم ایس سی (کیمسٹری) کی ڈگری لی۔ اس کے بعد وہ 1982 میں نائجیریا (افریقہ) چلے گئے۔ اس کے بعد وہ 1989 میں نائجیریا سے امریکہ منتقل ہو گئے۔ اپنے پروفیشن کے اعتبار سے وہ اسکول ٹیچر ہیں، اور مشن کے اعتبار سے وہ پوری طرح دعوت الی اللہ کے مشن سے جڑے ہوئے ہیں۔ خواجہ کلیم الدین صاحب ماہ نامہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں ۔ وہ الرسالہ کے پہلے شمارہ (اکتوبر 1976) سے اس کا برابر مطالعہ کر رہے ہیں۔ جب وہ نائجیریا میں تھے، اُس وقت انھوں نے خود اپنی کوشش سے الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن نکالنا
‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues