Here comes the much awaited Quran.
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲
مقام پر جا رہا تھا۔ راستے میں ہم ایک ریسٹ ایریا (Rest Area) پر رکے۔ یہاں ایک امریکی مسلمان اپنی اہلیہ کے ساتھ مل گئے۔ مسٹر تسنیم نے ان سے باقاعدہ گفتگو کی اور ان کو کتابیں دیں۔ بعد کو ان کا ٹیلی فون آیا اور مسٹر تسنیم کی دعوت پر وہ اپنی اہلیہ اور اپنے دو بچوں کے ساتھ ان کے گھر پر ملنے آئے۔ 21 جون 2011 کو ہم لوگ بذریعہ کار یارڈ لے (Yardley) پہنچے۔ یہاں ڈاکٹر انیس میمن کے گھر پر ایک پروگرام رکھا گیا تھا۔ حسب معمول مغرب سے پہلے شام کا کھانا کھایا گیا۔ اس کے بعد مغرب کی نماز ادا کی گئی، پھر میری تقریر ہوئی۔ اس پروگرام میں مردوں کے علاوہ، عورتیں بھی کافی تعداد میں موجود تھیں۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ ڈاکٹر انیس میمن ہمارے دعوتی مشن میں شامل ہیں۔ وہ اپنے کلینک میں ہمارے یہاں کا چھپا ہوا ترجمہ قرآن اور ریلیٹی آف لائف کی کاپیاں رکھتے ہیں۔ وہ اپنے ہر مریض (patient) کو قرآن کا ترجمہ اور ریلیٹی آف لائف بطور اسپرچول گفٹ (spiritual gift) پیش کرتے ہیں۔ یہاں ایک موقع پر کچھ غیر مسلم حضرات کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔ لوگوں نے اس کو بہت شوق سے لیا۔ ایک صاحب نے اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ وہ (ترجمہ) قرآن آ گیا، جس کا لمبی مدت سے انتظار تھا:
Here comes the much awaited Quran.
قرآن کے بارے میں یہ تجربہ ہمارے ساتھیوں کو بار بار پیش آیا ہے۔ جب لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا جاتا ہے تو وہ اس کو اس طرح لیتے ہیں جیسے کہ وہ پہلے سے اس کے منتظر تھے۔ ایک صاحب 40 سال پہلے امریکا میں آئے تھے۔ یہاں انھوں نے بزنس کے علاوہ، کئی ملی کام کئے ۔ مثلاً مسلم لڑکیوں کے لیے اسکول کا قیام ، وغیرہ۔ پہلے وہ اپنے کاموں کے بارے میں بہت زیادہ پر امید تھے ، مگر معلوم ہوا کہ نتیجے کو دیکھ کر وہ مایوس ہو گئے، یہاں تک کہ اب وہ امریکا کو چھوڑ کر اپنے سابق وطن پاکستان واپس چلے گئے ۔ مجھے بتایا گیا کہ وہاں انھوں نے ایک یتیم خانہ قائم کیا ہے اور سوشل ورک (social work) کر رہے ہیں۔
میرے علم کے مطابق، یہ تجربہ بہت عام ہے۔ میں انڈیا کے اندر اور انڈیا کے باہر کئی ایسے
‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues