Al-Risala · January 2012 · page

Here comes the much awaited Quran.

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲

مسلمانوں کو جانتا ہوں جنھوں نے ملی ورک شروع کیا۔ ابتدا میں وہ اپنے کام سے بہت پرامید تھے، لیکن بعد کو جب انھوں نے نتیجہ (result) دیکھا تو وہ اپنے کام کے بارے میں مایوس ہوگئے اور آخر تک اسی مایوسی کے عالم میں پڑے رہے۔ اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے یہاں میں نے ایک صاحب سے کہا کہ اس قسم کا حادثہ صرف ملی ورک میں پیش آتا ہے، دعوہ ورک میں نہیں۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ ملی ورک اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک ایسا کام ہے جس میں ہمیشہ نتیجہ (result) مطلوب ہوتا ہے، مگر دعوہ ورک کا نشانہ نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ تبلیغ ہوتا ہے، یعنی مدعو تک اپنی بات کو پہنچادینا۔ اسی حقیقت کو قرآن کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے: فذکر إنما أنت مذکّر، لست علیہم بمصيطر ۔

یہاں سفر کے دوران ایک بار کراچی سے مولانا عبداللطیف صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ وہ اور ان کے ساتھی پاکستان کے مختلف مقامات پر بڑے پیمانے پر دعوتی کام کر رہے ہیں۔ وہ باقاعدگی کے ساتھ ہر مہینے ماہ نامہ الرسالہ پاکستان سے چھاپ کر شائع کرتے ہیں۔ عبد اللطیف صاحب نے پوچھا کہ امریکا کے سفر میں آپ کے ساتھ کتنے آدمی ہیں۔ میں نے کہا کہ ہمارے ساتھ صرف اتنے ہی آدمی نہیں ہیں جو دہلی سے آئے ہیں، بلکہ وہ اُس سے بہت زیادہ ہیں، یہ فرشتے ہیں۔ ہمارے ساتھ فرشتوں کی ایک فوج ہے۔ جو لوگ تخریبی کام کرتے ہیں، اُن کے ساتھ شیطان کی فوج ہوتی ہے۔ ہم دعوتی کام کر رہے ہیں، اس لیے ہمارے ساتھ فرشتوں کی فوج ہے۔

جب میں امریکا میں تھا تو انڈیا سے میرے ایک ساتھی نے نئی دہلی کے ایک اردو ماہ نامہ (جولائی 2011) میں چھپا ہوا ایک مضمون بذریعہ ای میل مجھ کو بھیجا۔ یہ مضمون 4 صفحہ پر مشتمل تھا۔ اس مضمون میں میرے بارے میں یہ الفاظ درج ہیں :

"مثبت مثبت کی رٹ لگاتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ نفسیاتی طور پر منفی ذہنیت مولا نا پر مسلط ہوگئی۔ اب انھیں اپنے علاوہ، پوری تاریخ اسلام میں کہیں بھی کوئی قابل قدر شخصیت یا تحریک نظر نہیں آتی۔ مثبت مثبت کی رٹ کے ساتھ تاریخِ اسلام، شخصیاتِ اسلام اور ماضی و حال کے مسلمانوں میں کیڑے نکالنا مولانا کا محبوب مشغلہ بن گیا" (صفحہ 61)

‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues

Printed page