Al-Risala · January 2012 · page

Here comes the much awaited Quran.

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲

اس قسم کی بات کئی لوگوں نے میرے بارے میں کہی یا لکھی ہے۔ میں نے اُن لوگوں سے کہا کہ آپ متعین حوالے کے ساتھ بتائیں کہ میں نے ان الفاظ میں اس طرح کی بات کہاں لکھی ہے۔ لیکن اُن میں سے کسی نے میری اپنی تحریر کے حوالے سے اس کا کوئی ثبوت نہیں دیا۔ اصل یہ ہے کہ میری تحریریں تجزیاتی انداز میں ہوتی ہیں۔ مگر اپنے غیر علمی ذہن کی بنا پر لوگ اس کو سمجھ نہیں پاتے، وہ علمی تحلیل و تجزیہ یہ کو تعیب اور تنقیص کے ہم معنی سمجھ لیتے ہیں۔

امریکا میں کچھ ایسے مسلمان ہیں جنھوں نے شروع میں الرساله مشن کا ساتھ دیا، مگر دھیرے دھیرے وہ اس سے الگ ہوگئے۔ ایسے لوگوں سے گفتگو کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ لوگ ملی ذہن کے لوگ تھے۔ ان کی سوچ مسلم اورینٹیڈ (Muslim-oriented) سوچ تھی۔ وہ الرساله مشن سے یہ سوچ کر قریب ہوئے کہ یہ گویا مسلم ایمپاورمنٹ کا ایک مشن ہے۔ دھیرے دھیرے جب ان کو معلوم ہوا کہ یہ انسان اورینٹیڈ مشن ہے اور اس کا خاص نشانہ غیر مسلموں میں قرآن کا پیغام پہنچانا ہے تو وہ اس سے دور ہوگئے۔ یہ لوگ دوسرے اکثر مسلمانوں کی طرح ملی کام کو کام سمجھنے والے تھے۔ ان کے نزدیک دوسرے لوگ ان کی نظر میں صرف ’’غیر قوم‘‘ یا ’’اغیار‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایسے کئی لوگ میرے تجربے میں آئے ہیں، انڈیا میں بھی اور انڈیا کے باہر بھی۔

ہمارے کچھ ساتھی خواجہ کلیم الدین صاحب کے ساتھ فلیڈ یلفیا کے پوسٹ آفس گئے۔ خواجہ کلیم الدین صاحب 11 کارٹن باکس لے کر وہاں گئے تھے۔ ہر باکس میں 100 قرآن تھے۔ یہ قرآن کینیڈا، کیلی فورنیا اور امریکا کے دوسرے شہروں کے لیے بذریعہ ڈاک روانہ کئے گئے۔ امریکا میں کئی شہروں میں دعوہ ورک ہو رہا ہے۔ اُن کے لیے فلیڈ یلفیا کے دعوہ سینٹر سے برابر قرآن بھیجا جاتا ہے۔ خواجہ کلیم الدین صاحب کی یہ دعوتی سرگرمیاں امریکا اور کینیڈا دونوں ملکوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ روزانہ دعوت کے مختلف کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔ خواجہ کلیم الدین صاحب کے گھر پر یہ منظر دیکھ کر میں نے کہا کہ ــــ آپ نے تو یہاں ایک دعوہ انڈسٹری کھول دی ہے۔

امریکا کے لیے میرا یہ دسواں سفر تھا۔ اس بار میرا سفر نسبتاً زیادہ لمبا رہا۔ بہت سے لوگوں سے

‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues

Printed page