Al-Risala · January 2012 · page

Here comes the much awaited Quran.

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲

ملاقاتیں ہوئیں، بہت سے لوگوں کے گھروں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ میرا عام تجربہ یہ تھا کہ یہاں کے لوگ بظاہر پر راحت زندگی گزار رہے ہیں، لیکن یہاں عام طور پر یہ حال ہے کہ جب بھی اُن سے کسی سنجیدہ موضوع پر بات ہوتی ہے تو اچانک معلوم ہوتا ہے کہ وہ ذہنی بونے پن (intellectual dwarfism) کا شکار ہیں۔ گویا کہ ہر عورت اور مرد زبان حال سے یہ کہہ رہے ہیں کہ: Here, I am comfortable physically, but here I am deprived intellectually. ذہنی ارتقا سے اِس محرومی کا راز کیا ہے۔ اس کا راز یہ ہے کہ امریکا کا کلچر جبری مادیت (compulsory materialism) کا کلچر ہے۔ یہاں کے انسان کے پاس زندگی کے روحانی پہلو کے بارے میں سوچنے کی ضرورت نہیں، اور فطرت کا قانون ہے کہ زندگی کے جس پہلو کو لمبی مدت تک غیر استعمال شدہ حالت میں رکھا جائے، وہ معطل ہوکر رہ جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ بادشاہ بابر جب کشمیر گیا اور اس نے وہاں کے فطری حسن کو دیکھا تو اس نے کہا: اگر فردوس برروئے زمین است ہمین است وہمین است وہمین است لیکن بابر (وفات: 1530) کا یہ قول غالباً امریکا کے خوبصورت شہروں پر زیادہ صادق آتا ہے۔ امریکا میں فطرت کے مناظر بہت زیادہ ہیں۔ پھر یہاں کے مناظر کو خوب صورت تر بنا کر ان کے درمیان خوب صورت شہر بسائے گئے ہیں۔ اس طرح امریکا کے شہروں کے بارے میں زیادہ درست طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکا میں فطرت کے مناظر کے درمیان بنے ہوئے یہ خوب صورت شہر گویا ’مساكن طيبة في جنات عدن‘ کا ایک بعید تعارف ہیں۔

لیکن دو ہفتہ سے زیادہ امریکا میں قیام اور یہاں کے مختلف شہروں میں بار بار جانے کے بعد میں نے دریافت کیا کہ امریکا کو اگر جنت سے تشبیہہ دی جائے تو امریکا کی جنت، جنت مع الحزن کا مصداق ہوگی اور آخرت کی جنت، جنت بغیر الحزن کا مصداق۔

قرآن کی سورہ البقرہ میں ارشاد ہوا ہے: يمحق الله الربوا ويربى الصدقات (2: 276)

‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues

Printed page