عبد المحیط خاں کی یادداشتیں
الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۶۸
پاپا کہتے آدھا آدھا کرو۔ ہم لوگ جب حصہ لگاتے تو وہ بتاتے کہ کدھر زیادہ ہے اور کدھر کم ہے۔ اس طرح آخر میں ہم لوگوں کی عادت یہ ہوگئی کہ سعیدہ اپنا حصہ میری طرف کرتی، میں اس کی طرف کہ اس کی طرف زیادہ رہے اور میری طرف کم رہے۔ اکثر بچوں میں لڑائی ہوتی ہے کہ ہمارا کم ہے دوسرے کا زیادہ ہے، مگر ہم لوگ دوسرے کو زیادہ دینے اور اپنے لئے کم لینے پر مطمئن ہوتے تھے۔ ایک بار کوئی انگوٹھی تھی۔ وہ ہم لوگوں کو بہت اچھی لگی۔ انگوٹھی ایک تھی۔ اس کو دونوں لوگ نہیں پہن سکتے تھے۔ اس لئے یہ طے پایا کہ باری باری پہنیں، ایک دن میں اور ایک دن تم۔ اس طرح ایک دن پہن کر دوسرے دن صبح بستر سے اٹھنے سے پہلے ہم انگوٹھی دوسرے کو دے کر اٹھتے تھے کہ صبح کے ساتھ ہی اپنی باری ختم ہوگئی۔ بچپن سے انصاف کرنا سیکھ رہے تھے، کبھی کسی چیز پر لڑائی نہیں ہوئی، دوسرے کو دینے میں زیادہ خوشی ہوتی۔
سعیدہ مجھ سے بے انتہا محبت کرتی تھی، شاید ہم سے بھی زیادہ۔ وہ کوئی کام اکیلے نہیں کرتی، نہ اکیلے کہیں جاتی تھی۔ ایک بار پتا نہیں کیسے وہ اکیلے کہیں چلی گئی۔ کیسے گئی، یاد نہیں۔ مگر روتی ہی جارہی تھی ۔ جس کے یہاں گئی تھی، وہ پریشان کہ بچی کیوں روئے جاری ہے۔ انھوں نے اس کو ایک کیلا لا کر دیا، جیسا کہ اکثر بچوں کو دیا جاتا ہے کہ شاید کھانے میں بہل جائے۔ اس نے کیلا لے کر زور زور سے رونا شروع کر دیا۔ سب پریشان کہ کیا ہو گیا۔ بہت پوچھا تو بولی” آپا کے لیے‘‘۔ پھر دوسرا کیلا دیا تو وہ لے کر گھر آئی، پھر ساتھ بیٹھ کر کھایا۔ اس طرح کے بہت سارے ہم لوگوں کے قصے ہیں۔ خاندان میں ہم اس طرح کی باتوں کی وجہ سے کافی مشہور ہو گئے تھے۔
پاپا بھی اپنے بچپن کے قصے بہت بتاتے تھے۔ پاپا اپنے دونوں بھائیوں سے بے حد محبت کرتے تھے۔ اکثر بات کر کے ان کی آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے۔ وہ کہتے” میں نے اپنے ابا کو تو دیکھا ہی نہیں، بھائی لوگوں کو ہی باپ کی طرح سمجھا‘‘۔ شکر بے حد کرتے۔ بچپن کے قصہ بتاتے ، کس طرح ہم یتیم ہو گئے اور سب کچھ چھن گیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے تینوں بھائیوں کو کس طرح نوازا۔ کبھی سوچا نہ تھا کہ ہم لوگوں کو پھر سے اتنا ملے گا۔