عبد المحیط خاں کی یادداشتیں
الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۶۷
گئے ۔ انھوں نے اپنی ڈائری میں ایک جگہ لکھا تھا: ’’ایمان روح کی پاکیزگی ہے اور جس کی روح پاک ہو گئی ہو، وہ اپنے معاملات میں ناپاکی کا طریقہ کیسے اختیار کر سکتا ہے‘۔ میرے والد ، اللہ کے ایک ایسے بندے تھے جنھوں نے ساری زندگی سچائی کا ساتھ دیا۔ ان سے کسی شخص کو جھوٹ کا تجربہ نہیں ہوا۔ ان کی زندگی میں بہت سے شدید ترین حالات پیدا ہوئے، اس کے باوجود وہ اپنے قول سے پھرے نہیں۔ جھوٹ سے ان کو سخت نفرت تھی۔ گھڑی ہوئی بات، زیر زبر کے فرق، اور بغیر آنکھ کان کے دیکھے سنے، وہ کسی بات پر یقین نہیں کرتے تھے۔ اور اسی طرح کی عادت میری چھوٹی بہن سعیدہ کی بھی ہے۔
اس طرح ہم لوگوں نے ان سے حق اور انصاف کی باتیں بھی سیکھیں۔ جس طرح انھوں نے بڑھیریا کی جائداد اپنے ذمہ دار بننے کے بعد تقسیم کی، وہ بھی ایک مثال ہے۔ پاپا نے سب کا حصہ سب کے پاس پہنچایا۔ بقول ہماری پھوپھی زاد، بہن جن کا نام سلمیٰ ہے، ’’ہم لوگ نہیں جانتے تھے کہ اماں کا حصہ بھی ہے۔ ماموں نے دینا شروع کیا تو معلوم ہوا‘۔ یہ بات انھوں نے مجھ سے کہی تھی ۔ اسی طرح سے انھوں نے میراث کے متعلق دیو بند سے فتویٰ منگوایا۔ معلوم ہوا کہ جس کی صرف لڑکیاں ہوں، کوئی بیٹا نہ ہو تو جائداد میں بھائی کا حصہ ہوتا ہے، اگر وہ زندہ ہے۔ اور یہ کام وہ انتقال سے چار سال پہلے ہی کر چکے تھے۔ اس طرح انتقال کے بعد پاپا کے مکان کو فروخت کر کے بڑے ابا (مولانا وحید الدین خاں) کا حصہ دیا گیا تھا جو بڑے ابا نے نہ لے کر القرآن مشن (Al-Quran Mission) میں لگا دیا۔ اس طرح ان کی ایمان داری کا پاک صاف پیسہ پاک جگہ لگ کر پوری دنیا میں پھیل رہا ہے۔ یہاں پر بھی ہم لوگوں نے یہی سیکھا کہ حق و انصاف اور ایمان داری میں کتنی برکت ہوتی ہے۔ اپنے اور دوسروں سے چھین لینے میں نہیں، بلکہ دوسروں کو دینے میں برکت اور محبت ہے۔ اسی طرح ہم لوگوں کے بچپن کے کچھ واقعے ہیں جن کو پاپا سنا کر ہنستے تھے، ان میں سے کچھ ہم لوگوں کو یاد ہیں، وہ یہاں نقل کئے جاتے ہیں:
ہم لوگ بہت چھوٹے تھے۔ امی کبھی کھانے کو ایک ہی پلیٹ میں 2 چمچ لگا کر دے دیتی تھیں ۔