Read

Al-Risala, May 2012

  1. p. 24 www.alrisala.org May 2012 • No. 426 • Rs. 15
  2. p. 25 بسم اللہ الرحمن الرحیم جاری کردہ 1976 اردو اور
  3. p. 26 بھائی کی یادیں · چند واقعات
  4. p. 27 اصول پسندی
  5. p. 28 اپنے سخت اصولوں کی بنا پر انھوں نے ان
  6. p. 29 خاندانی حالات
  7. p. 30 دعوتی زندگی
  8. p. 31 فہمیدہ خانم اُن کی وفات کے بعد مسلسل طور
  9. p. 32 پرنسپل تھے اور اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔ پروفیسر
  10. p. 33 اس کو پاییٹ کہتے ہیں۔ اس کے بعد پروفیسر
  11. p. 34 پہلے قانون کے ذریعہ پاور ہاؤس بنتا ہے اور
  12. p. 35 مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جارہی
  13. p. 36 ”ہمارے یہاں تمام سیٹیں بھر چکی ہیں، اب مزید
  14. p. 37 اخلاقیات کی پرورش ہوگی۔ وہ اپنے تجربات سے جُرأت،
  15. p. 38 ایک واقعہ
  16. p. 39 Mr. Khan, you can go.
  17. p. 40 ایسی مثالیں بھی ہیں
  18. p. 41 A. M. Khan, Principal
  19. p. 42 ہوئے۔ ایک انتہائی شریف انسان، ہنس مکھ چہرہ اور
  20. p. 43 (Testimonial) کے لیے کہا تو انھوں نے نہایت فراخ
  21. p. 44 انھوں نے کچھ توجہ نہ دی تو وہ ڈائرکٹرر
  22. p. 45 ”کیا آپ کا سابقہ کبھی کسی نیتا سے بھی
  23. p. 46 حیثیت سے کام کر رہا تھا، ایک بار ایسا
  24. p. 47 پھر روانگی کے دن لڑکوں نے مجھ کو الوداعی
  25. p. 48 حاصل کر سکتا ہے اور اگر ساری قوم ایسی
  26. p. 49 تعلیم کا شوق
  27. p. 50 تعداد ہندو نو جوانوں کی ہوتی تھی۔ تعلیم کے
  28. p. 51 آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور اس پر
  29. p. 52 موت کا زندہ تصور
  30. p. 53 عبد المحیط خاں کی یادداشتیں
  31. p. 54 فہمیدہ خانم نے مجھ کو دیا۔ یہاں ان اقتباسات
  32. p. 55 درجے کی کوئی چیز جنت کی قیمت نہیں بن
  33. p. 56 موت ایک ایسا گیٹ ہے جس کے اندر آدمی
  34. p. 57 آج لوگوں کے پاس الفاظ ہیں جن کو وہ
  35. p. 58 کسی کے لیے جہنم کا دروازہ۔ وہ انسان بڑا
  36. p. 59 ہمیشہ ان کی پسند، ناپسند کا خیال رکھا۔ آخری
  37. p. 60 (Sachidanand Pandey) تھے، وہ پاپا کو بہت زیادہ مانتے
  38. p. 61 اس کی وجہ سے دل برابر تمھاری طرف لگا
  39. p. 62 میں، بہت سے ایسے لوگوں سے قریبی تعلق رہا
  40. p. 63 دماغ کی قوتوں کو اپنی دنیا و آخرت کی
  41. p. 64 کو ہلکان کرنے کا کوئی فائدہ نہ دنیا میں
  42. p. 65 کہ جب موت آتی ہے تو اچانک اس کو
  43. p. 66 رہتے تھے۔ 1995 میں پا پارٹائر ہوئے ۔ اور
  44. p. 67 گئے ۔ انھوں نے اپنی ڈائری میں ایک جگہ
  45. p. 68 پاپا کہتے آدھا آدھا کرو۔ ہم لوگ جب حصہ
  46. p. 69 پاپا کی زندگی میں ہمیں کبھی یہ احساس نہ
  47. p. 70 آتی تھی۔ وہ بات بھی بہت کم کرتے تھے۔
  48. p. 71 بتایا کہ میں یہ دعا ئیں پڑھتا ہوں۔ معمول
  49. p. 72 اللہ اکبر اتحاد ملت احیاۓ اسلام اسباق تاریخ اسفار
Printed page