Al-Risala · May 2012 · page 70

عبد المحیط خاں کی یادداشتیں

الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۷۰

آتی تھی۔ وہ بات بھی بہت کم کرتے تھے۔ ڈر اور سوچ میں ڈوبے رہتے، کوئی بات کی جاتی تو سمجھ ہی نہیں پاتے تھے۔ اس طرح وہ آخرت کی یاد میں گم ہو کر رہ گئے تھے۔

پینشن (pension) لینے کے لئے وہ ہر سال فیض آباد آتے اور ہمارے پاس رہتے تھے۔ اس طرح نومبر 2009 میں بقر عید سے 2 دن پہلے وہ فیض آباد آئے۔ وہ کمزور ہو گئے تھے، مگر اللہ کے کرم سے ان کو کوئی مرض نہیں تھا۔ جس طرح وہ بیماری سے اور بستر پر پڑ جانے سے ڈرتے تھے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر ہر طرح سے کرم کیا۔ ہر دم اللہ کے خوف سے کانپتے تھے۔ ایسا پریشان رہتے جیسے کسی بڑی مشکل میں آدمی پریشان رہتا ہے۔

اس طرح کی باتیں جو وہ تقریباً روز کہتے تھے کس طرح اللہ کے یہاں پیشی ہوگی۔ کب موت آجائے، کس وقت بلاوا آجائے۔ ہم دو بھائی بچے ہیں، پتہ نہیں کس کی باری پہلے ہے۔ بچپن کی باتیں کرتے، سب کو یاد کرتے اور کہتے کہ لگتا ہے میرا وقت قریب آگیا ہے، وغیرہ۔

اپنی زندگی میں جس طرح کی تکلیف ان کو پہنچی تھی، اس کے مطابق باتیں وہ تذکیر القرآن سے ہم لوگوں کو پڑھ کر سناتے تھے، مثلاً: "عام آدمی روٹی پر جیتا ہے، مومن وہ انسان ہے جو دلیل حق پر جیتا ہے۔ " "دلیل کے ذریعہ کسی کو رد کرنا درست ہے، جب کہ عیب لگا کر کسی کو بدنام کرنا سراسر نادرست۔ " "لوگ خود غرض بن کر نہ رہیں، بلکہ وہ لوگوں کے خیر خواہ بن کر رہیں "۔ اس طرح وہ ہر دم اللہ کا کلام سنتے، سناتے، لوگوں کو اس کے بارے میں بتاتے اور اس کو لکھتے ہوئے وقت گزار رہے تھے اور شاید اللہ کے بہت قریب ہو گئے تھے۔ انتقال سے دو روز پہلے انھوں نے امی سے کہا کہ " آج خواب میں چچا کو دیکھا، وہ مجھے بلانے آئے تھے "۔

امی کا پنشن کے کاغذ میں نام نہیں تھا، اس کو درج کروایا، یہ کہہ کر کہ " بہت ضروری ہے، اس کو درج کرانا ہے۔ " اُس رات جس دن ان کا انتقال ہوا ہے، انھوں نے امی سے کہا " دل چاہتا ہے، ہم چاروں لوگ (پاپا، امی، دونوں بہن) اکٹھا ہو جائیں "۔ سعیدہ سے ایک سال سے ملاقات نہیں ہوئی تھی، اس کو یاد کیا، پھر فون پر اس سے بات کر کے امی سے یہ بات کرتے ہوئے سوئے کہ تم لیٹتے وقت کیا دعائیں پڑھتی ہو، اور خود

‹ Previous page Next page › Contents of May 2012 All issues

Printed page